ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان شہر میں میونسپل کارپوریشن کے نام پر قائم نظام رشوت خور اہلکاران جن کی سربراہی ندیم نواز و منیر احمد کر رہے ہیں ایک غیر آئینی، جابرانہ اور مبینہ طور پر رشوت خور مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 10 اے (صاف شفاف سماعت کا حق) کو دن دہاڑے روند دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جو ٹھیلے اور کھوکھے والے ان کو 2000 سے 5000 منتھلی نہیں دیتے وہاں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر شہریوں، خصوصاً غریب ریڑھی بانوں اور دکانداروں کے ساتھ انسانی سلوک نہیں بلکہ دشمنوں جیسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بغیر کسی نوٹس، بغیر وارننگ اور سب سے بڑھ کر بغیر مؤقف سنے ان کا سامان زبردستی اٹھا لیا جاتا ہے، جو نہ تو کسی ریکارڈ میں آتا ہے اور نہ ہی بعد ازاں مکمل طور پر واپس کیا جاتا ہے۔ روزنامہ قوم کی قانونی ماہرین کی ٹیم کے مطابق یہ تمام کارروائیاں نہ صرف آرٹیکل 10 اے بلکہ مشہور قانونی اصول Audi Alteram Partem(دوسرا فریق بھی سنا جائے) کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ نہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ آیا متاثرہ شخص کے پاس اجازت نامہ ہے یا نہیں، نہ یہ جانچ کی جاتی ہے کہ وہ جگہ اس کی ذاتی ملکیت ہے یا سڑک کی، بس طاقت کے زور پر سامان اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ کئی مواقع پر شہریوں کو دھکے دیئے گئے، ٹھڈے مارے گئے اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس غیر قانونی قبضے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک غریب خاندان کی مہینوں کی جمع پونجی لمحوں میں لوٹ لی جاتی ہے اور ان کے بچوں کا چولہا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اگر کبھی سیاسی دباؤ پر سامان واپس بھی کیا جائے تو وہ بھی نامکمل اور بکھرا ہوا ہوتا ہے۔یوں اصل نقصان ناقابلِ تلافی رہتا ہے۔ ذرائع نے ایک انتہائی سنگین واقعہ کی نشاندہی کی ہے جہاں میونسپل کارپوریشن کے ایک بدنام اور رشوت خور انسپکٹر منیر احمد نے جیل چوک کے قریب ایک عمارت کے مکان مالک سے بھتہ طلب کیا گیا اور انکار پر دھمکیاں دی گئیں۔ جب مالک نے اوپر شکایت کی بات کی تو مبینہ طور پر انسپکٹر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتاکیونکہ سی ای او اقبال خان کا ہاتھ میرے سر پر ہے۔ یہ بیان اگر درست ہے تو یہ پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا میونسپل کارپوریشن آئین سے بالاتر ہو چکی ہے؟ کیا غریب شہریوں کا سننا اب ریاست کی ذمہ داری نہیں؟ کیا تجاوزات کے نام پر لوٹ مار کو پالیسی بنا لیا گیا ہے؟ اور کیا بااثر افسران واقعی قانون سے بالاتر ہیں؟ شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان اداروں میں بیٹھے اشخاص کی اخلاقی تربیت بھی کی جائے اور تجاوزات کے خلاف تمام کارروائیوں کا تحریری نوٹس اور ریکارڈ لازمی بنایا جائے۔ ضبط شدہ سامان کی مکمل لسٹ اور واپسی کا شفاف نظام قائم ہو۔ آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی میں ملوث افسران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ غریب خاندانوں کو ہرجانہ ادا کیا جائے۔ کیونکہ اگر آئین ہی محفوظ نہ رہا تو پھر غریب کے پاس بچتا کیا ہے؟ اس بارے میں موقف کے لیے جب منیر احمد سے رابطہ کیا گیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔







