جعلی پٹواری اسد جہانگیر نے ریکارڈ یرغمال بنا لیا، ملتان کے آدھے موضع جات پر قبضہ

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں پٹواری بھرتی کا بدنامِ زمانہ سکینڈل ایک نئی اور نہایت خوفناک شکل اختیار کر چکا ہے جہاں اب غیر قانونی تقرری کے بعد باقاعدہ طور پر ریاستی ریکارڈ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دوران قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے غیر قانونی طور پر بھرتی کیے گئے پٹواری اسد جہانگیر کو بغیر کسی تربیت، اہلیت اور قانونی اجازت کے متعدد موضع جات کا چارج سونپ دیا گیاجس کے بعد سرکاری ریکارڈ میں من مانی رد و بدل اور کھلے عام مالی بدعنوانی کا آغاز کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد جہانگیر وہی پٹواری ہے جو مبینہ طور پر بھاری رقوم دے کر بھرتی ہوا اور تعیناتی کے فوراً بعد سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچانے لگا۔ انکشاف ہوا ہے کہ اسد جہانگیر نے دو مینول پٹوار سرکل بہاولپور سکھا اور نیل کوٹ کے اضافی چارج کا ریکارڈ غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھا ہوا ہےجبکہ مزید دو مینول پٹوار سرکل، کائیاں پور اور مظفرآبادکا ریکارڈ کمپیوٹرائز پٹواری وجاہت کے نام پر آرڈر کروا کر خود قبضے میں لے لیااور ان مینول موضع جات کو خود چلا رہا ہے۔ اس پر بھی اکتفا نہ کیا گیابلکہ نئے بھرتی ہونے والے کمپیوٹرائز پٹواریوں کو کھلی پیشکش کی جا رہی ہے کہ مجموعی آمدن کا 40 فیصد حصہ اسد جہانگیر کو ادا کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق ایک اور نئے بھرتی ہونے والے پٹواری ثقلین کا آرڈر موضع جمعہ خالصہ میں کر دیا گیا، جو کہ ایک مینول موضع ہےتاکہ وہاں بھی غیر قانونی کنٹرول قائم رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق تحصیل سٹی ملتان کے کل 10 مینول موضع جات میں سے کم از کم پانچ موضع جات اس وقت اسد جہانگیر کے قبضے میں ہیں جہاں وہ اپنی مرضی سے ریکارڈ میں رد و بدل کرتا، انتقالات تبدیل کرتا اور سرکاری فیس کی مد میں براہِ راست خورد برد کر رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف لینڈ ریونیو سسٹم پر سوالیہ نشان ہے بلکہ ہزاروں شہریوں کی زمینوں اور قانونی حقوق کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ یاد رہے کہ پٹواری اسد جہانگیر کی تقرری بغیر اشتہار، میرٹ، تحریری امتحان اور شفاف انٹرویو کے کی گئی۔ اس وقت کی اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان سیمل مشتاق نے قانون کے مطابق اسے کسی بھی پٹوار حلقے کا چارج دینے سے انکار کیا۔ بورڈ آف ریونیو پنجاب نے تحریری طور پر تعیناتی کے احکامات کو خلافِ قانون قرار دیا۔ اپیل کو مبینہ طور پر دبایا گیا اور فائل غائب کر دی گئی۔ غیر قانونی تقرری کی بنیادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ جعلی اور غیر منظور شدہ پٹوار کورس ڈپلومے کے ذریعے تقرری ممکن بنائی گئی۔اے سی سٹی ملتان کو مزاحمت پر اے سی آر خراب کرنے اور کیریئر تباہ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ غیر قانونی پٹواری کو منافع بخش موضع جات دے کر پورے نظام کو یرغمال بنایا گیا۔ زمینوں کے ریکارڈ میں رد و بدل کے ذریعے ملتان میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی منظم کوشش جاری ہے۔ یہ سکینڈل اب محض بدعنوانی نہیں رہا بلکہ ریاستی ریکارڈ پر کھلا حملہ بن چکا ہے۔ اگر فوری طور پر اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری نہ کرائی گئی تو اس کے نتائج آنے والے برسوں میں ناقابلِ تلافی ہوں گے۔ خاموشی اب جرم کے مترادف بنتی جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں