تازہ ترین

بہاولپور: منشیات کیس، پولیس لابی “دلبر” کو بچانے کیلئے متحرک، شواہد چھپانے کا انکشاف

بہاولپور (کرائم سیل)سابقہ ایس ایچ او دلبر حسین منشیات برآمدگی کیس میں سنگین بے ضابطگیوں اور مبینہ سہولت کاری کے انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی پی او آفس کی وہ مخصوص لابی، جو مبینہ طور پر پیسے لے کر بغیر میرٹ اور ناتجربہ کار افسران کو بطور ایس ایچ او تعینات کرواتی رہی ہے، نہ صرف ابھی تک محفوظ ہے بلکہ ایس پی انویسٹی گیشن جمشید علی شاہ کی موقع پر موجودگی میں منشیات برآمد ہونے کے باوجود اسی لابی کے مبینہ سہولت کار دلبر حسین کو قانونی ریلیف دلوانے کی کوششوں میں کامیاب نظر آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقدمہ نمبر 46/25 میں استغاثہ اس انداز میں مرتب کیا گیا کہ نہ دلبر حسین کی ولدیت، نہ مستقل پتہ، نہ اس کی حیثیت بطور پولیس افسر اور نہ ہی اس کا عہدہ ظاہر کیا گیا، کیونکہ پولیس افسر ظاہر ہونے کی صورت میں اس کے خلاف کریمنل ریکارڈ پروسیجر اور 155/سی کے تحت کارروائی ناگزیر ہو جاتی، مگر مبینہ طور پر مخصوص لابی نے دانستہ طور پر ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کیا۔قانونی ماہرین کے مطابق منشیات کے مقدمات میں اگر ملزم فرار ہو جائے تو اس پر 15- CNSA کے تحت سہولت کاری سے متعلق دفعات، جیسے سواری فراہم کرنا، منشیات رکھوانا یا جگہ مہیا کرنا، عائد کی جاتی ہیں، تاہم دلبر حسین کے مفرور ہونے کے باوجود یہ دفعات اس پر لاگو نہیں کی گئیں تاکہ عدالت سے اسے فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک فرار ملزم کا منشیات کے ساتھ ٹھوس اور مسلسل تعلق (Association) ثابت نہ کیا جائے اور قابلِ اعتماد شواہد پیش نہ ہوں، عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ اس مقدمے میں یہ بنیادی تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بہاولپور پولیس اور شہریوں کی بڑی تعداد جانتی ہے کہ دلبر حسین کی رہائش عزیز آباد کالونی میں ہے، جبکہ منشیات کی برآمدگی مسافر خانہ کے ایک کرائے کے مکان سے ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے تفتیش پر مزید سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا تفتیشی افسر عدالت میں یہ ثابت کر پائے گا کہ دلبر حسین کا اس مکان سے مستقل اور مسلسل تعلق تھا، یا وہ کب اور کتنے عرصے تک وہاں آتا رہا، کیونکہ ڈیجیٹل دور میں ایسی معلومات کا ریکارڈ حاصل کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ برآمد ہونے والی منشیات درحقیقت ایس ایچ او کے کوارٹر سے برآمد ہوئی، مگر معاملے کو دبانے کے لیے کرائے کے مکان کا بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ اسی طرح گرفتار ملزم سراج سے منشیات اڈا سبیل علاقہ تھانہ خیرپور ٹامیوالی سے برامد ہوئی مگر مقدمہ تھانہ مسافر خانہ میں درج ہوا اس کی کیا وجوہات ہیں ؟قانونی ماہرین کے مطابق استغاثہ میں موجود یہ تمام تضادات اور متنازع شواہد ملزمان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ منشیات کے مقدمات میں کمزور اور متنازع شواہد اکثر ملزمان کو ریلیف دلا دیتے ہیں۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ جب سی سی ڈی کی مدد سے دو کلو آئس اور 43 کلو چرس برآمد کی گئی تو پولیس کو چاہیے تھا کہ کم از کم دو کلو آئس کے حوالے سے فوری مقدمہ درج کیا جاتا، کیونکہ ملزم سراج کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا تھا، مگر ایس ایچ او کو گرفتار کیے بغیر ہی مقدمہ اس انداز میں درج کیا گیا جس سے کیس کے دیگر مبینہ کردار اور ڈی پی او آفس کی مخصوص لابی بے نقاب ہونے سے بچ گئی۔ذرائع کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش، اس کی نگرانی اور ڈی پی او کو بریف کرنے والے بھی وہی مخصوص عناصر ہیں جو مبینہ طور پر بغیر میرٹ تعیناتیوں اور مالی فوائد کے اس نیٹ ورک کا حصہ رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈی پی او بہاولپور نے انٹیلیجنس ناکامی پر پولیس سکیورٹی برانچ کو سروس ضبطی کی سزا دی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی کافی ہے، یا پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ ایس ایچ اوز کی غیر قانونی تعیناتی اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے عناصر کو ڈی پی او آفس سے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے تاکہ محکمہ پولیس کو بدنام کرنے والے ایسے واقعات کا مستقل سدِباب ممکن ہو سکے۔تاہم اس سلسلے میں ترجمان بہاولپور پولیس نے اتوار چھٹی کا روز ہونے کی وجہ سے کسی قسم کا کوئی موقف نہیں دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں