ملتان(شیخ نعیم سے)پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کی ابتدائی مؤثر کارروائیوں کے بعد جہاں جرائم پیشہ عناصر دباؤ میں نظر آ رہے تھے، وہیں اب سی سی ڈی کی کارروائیوں میں نرمی آتے ہی صوبے بھر میں ایک بار پھر جرائم نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ ملتان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں قتل و غارت، راہزنی، بھتہ خوری، سوشل میڈیا کے ذریعے کھلی دھمکیاں اور جرائم پیشہ گروہوں کے ایک دوسرے پر فائرنگ حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق جرائم پیشہ عناصر نے دوبارہ منظم ہو کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں بھتہ نہ دینے پر دکانوں اور گھروں پر فائرنگ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور دھمکی آمیز پیغامات کے ذریعے خوف پھیلانے اور اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ ملتان میں حالیہ دنوں میں مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان تصادم اور فائرنگ کے واقعات نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل سی سی ڈی کی سخت کارروائیوں سے جرائم پیشہ عناصر پسپا ہو گئے تھے، تاہم اب دوبارہ وہی عناصر سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام ایک بار پھر خود کو بے یارو مددگار محسوس کر رہے ہیں اور حکومتِ پنجاب سے تحفظ اور انصاف کے لیے دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سی سی ڈی کی جانب سے پنجاب میں مجموعی طور پر کئی قابلِ ستائش کارروائیاں کی گئیں جنہوں نے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا۔ لاہور میں طیفی بٹ اور ملتان میں خالد سین کا مبینہ پولیس مقابلہ ایسی ہی بے مثال کارروائیاں سمجھی جاتی ہیں، جنہوں نے جرائم پیشہ عناصر کو واضح پیغام دیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود حالیہ دنوں میں کرائم کی صورتحال ایک بار پھر کروٹ لیتی نظر آ رہی ہے، جو سکیورٹی حکمتِ عملی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے۔بتایا گیا ہے کہ حلقوں اگر سی سی ڈی کی کارروائیوں میں تسلسل اور سختی برقرار نہ رکھی گئی تو جرائم پیشہ عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملتا رہے گا۔ عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ وقتی کارروائیوں کے بجائے مستقل اور بلا امتیاز کریک ڈاؤن کی اشد ضرورت ہے۔شہریوں کی نظریں اب ایک بار پھر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پر مرکوز ہیں، جن سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے نہ صرف شہریوں کو انصاف فراہم کریں گے بلکہ جرائم پیشہ عناصر کو آہنی ہاتھوں سے نکیل ڈال کر صوبے میں امن و امان کی صورتحال بحال کریں گے۔







