تازہ ترین

بہاولپور: پولیس، پرائیوٹ رضاکاروں کا گٹھ جوڑ، منشیات مافیا کا پردہ فاش

بہاولپور (سپیشل رپورٹر) بہاولپور میں منشیات مافیا کا نیا انکشاف: پولیس، رضاکار اور مال خانہ کا گٹھ جوڑ بے نقاب ۔گزشتہ دن سے آج تک سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز خبر گردش کر رہی ہے جس نے پولیس کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اطلاعات کے مطابق ایک ایس ایچ او کا پرائیوٹ رضاکار منشیات فروخت کرتے ہوئے گرفتار ہوا، جس کے بعد تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایس ایچ او ایس آئی دلبر حسین خود بھی اس غیر قانونی نیٹ ورک میں ملوث تھا۔ معاملہ سامنے آنے پر ایس ایچ او اور اس کے پرائیوٹ رضاکار کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق یہ صرف ایک فرد یا ایک واقعہ نہیں بلکہ بہاولپور ڈویژن میں جاری ایک منظم اور طویل المدتی سلسلے کا حصہ ہے ۔تفصیل کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں پولیس کی جانب سے جو منشیات سیمپلز فرانزک لیبارٹری بھجوائے جاتے ہیں وہ تو اصل منشیات پر مشتمل ہوتے ہیں، مگر جو پارسل مال خانے میں جمع کروایا جاتا ہے وہ اکثر ناکارہ یا کسی اور مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس عمل میں مال خانہ کے بعض اہلکار مبینہ طور پر رشوت لے کر جان بوجھ کر جعلی پارسل وصول کرتے ہیں، حالانکہ انہیں اس تبدیلی کا مکمل علم ہوتا ہے تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان سے برآمد ہونے والی اصل منشیات پولیس افسران اپنے رکھے ہوئے پرائیوٹ رضاکاروں کے ذریعے مارکیٹ میں فروخت کرواتے ہیں یہ رضاکار دن بھر پولیس کی مبینہ پشت پناہی میں دلالی اور منشیات فروشی میں سرگرم رہتے ہیں۔ بعد ازاں جن افراد کو یہ منشیات فروخت کی جاتی ہیں، انہی کو دوبارہ گھیرے میں لے کر بھاری رقوم بٹورنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں پنجاب بھر میں سی سی ڈی کی مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے منشیات فروشوں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے اور اس لعنت کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم چلائی گئی، تاہم بہاولپور میں ایک بار پھر منشیات فروشی کا جن بے قابو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ بدنامِ زمانہ رضاکار بتائے جا رہے ہیں جو سی سی ڈی کارروائیوں سے بچ جانے والے منشیات فروشوں کو دوبارہ سپلائی فراہم کرنے اور نئے نیٹ ورک تشکیل دینے میں مصروف ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان رضاکاروں کے اثر و رسوخ اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ سی سی ڈی جیسے ادارے بھی ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں عوامی و سماجی حلقوں نے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی پنجاب سہیل ظفر چٹھہ، آر او سی سی ڈی بہاولپور شفقت ندیم عطا اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بہاولپور میں موجود تمام پرائیوٹ رضاکاروں کا فوری طور پر تعاقب کیا جائے، ان کے موبائل نمبرز کے سی ڈی آر اور واٹس ایپ ڈیٹا حاصل کیے جائیں، کیونکہ ان ریکارڈز کے سامنے آنے سے پورا نیٹ ورک، منشیات کی سپلائی چین اور پولیس و رضاکاروں کے مبینہ گٹھ جوڑ کی مکمل تصویر واضح ہو جائے گی شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ سخت اور غیر جانبدار کارروائی ہی پنجاب بالخصوص بہاولپور کو منشیات جیسی مہلک لعنت سے نجات دلا سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں