تازہ ترین

لگژری کلب بجلی سکینڈل، میپکو افسران نے تکنیکی ریکارڈ مشکوک بنادیا، سسٹم کو بھی نقصان

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں میپکو اور نجی لگژری کلب کے بجلی اسکینڈل نے اب ایک اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں ریکارڈ پر موجود بش ولاز گرڈ اسٹیشن کے باوجود میپکو افسران نے دانستہ طور پر نہ صرف سسٹم کو نقصان پہنچایا بلکہ تکنیکی ریکارڈ کو بھی مشکوک بنا دیا۔ دستیاب شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ کسی غلطی یا لاپرواہی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ تھا، جس کا مقصد غیر قانونی بجلی کی فراہمی کو چھپانا اور ذمہ داروں کو بچانا تھا۔ دستاویزی ریکارڈ کے مطابق فروری 2024 میں بش ولاز گرڈ اسٹیشن سے نکلنے والے 11KV فیڈر کے لائن لاسز صرف 9 فیصد تھے، مگر جونہی غیر قانونی کنکشن کو فعال کیا گیا، یہی لائن لاسز اچانک 29 فیصد تک پہنچ گئے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس غیر معمولی اضافے کے باوجود نہ تو کوئی الرٹ جاری کیا گیا، نہ انکوائری ہوئی اور نہ ہی یونٹس Received اور یونٹس Sold کے درمیان واضح فرق ظاہر کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لائن لاسز میں اس خطرناک اضافے کے باوجود میپکو افسران کی خاموشی بذاتِ خود ایک جرم ہے، کیونکہ تکنیکی اصولوں کے مطابق اس سطح کے اضافہ پر اعلیٰ حکام کی توجہ ہونی چاہیے۔ مگر یہاں خاموشی اختیار کی گئی، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ چیف انجینیئر CSD میپکو، ڈائریکٹر کمرشل اور ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی اس پورے عمل میں مبینہ طور پر شریکِ جرم تھے۔ مزید انکشاف یہ ہے کہ سسٹم میں رد و بدل کر کے غیر قانونی کنکشن کے اصل سورس کو دھندلا دیا گیا، تاکہ بش ولاز گرڈ اسٹیشن سے ہونے والی سپلائی کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف تکنیکی شفافیت تباہ ہوئی بلکہ قومی ادارے کو کروڑوں روپے کے نقصان کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ یہ صورتحال اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ میپکو میں بعض بااثر افسران نے ادارے کے مفادات کو نجی فائدے پر قربان کر دیا، اور ریکارڈ اور ڈیٹا سب کچھ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت استعمال کیا گیا۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ بدعنوانی ہوئی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس منظم واردات کے ذمہ داروں کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یاد رہے کہ مارچ 2024 میں ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی 11KV پینل نصب اور انرجائز کروایا۔ اس پینل کو نہ کوئی کوڈ دیا گیا اور نہ ہی ریفرنس نمبر الاٹ ہوا۔ پینل کی باقاعدہ بلنگ کبھی نہیں کی گئی۔ کرکٹ میچز کے دوران ہوٹل رومینزہ گولف اینڈ کنٹری کلب مکمل طور پر پی سی بی نے بک رکھا۔ میچز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی مکمل طور پر چوری شدہ تھی۔ تقریباً 31 لاکھ یونٹس (مالیت لگ بھگ 14 کروڑ روپے) عوام کے بلوں میں ایڈجسٹ کیے گئے۔ پرانا 11KV پینل شواہد مٹانے کے لیے کاغذوں میں “چوری شدہ” ظاہر کیا گیا۔ اتنے بھاری پینل کی چوری تکنیکی طور پر انتہائی مشکوک ہے۔ فیڈر انسٹال کیے بغیر مٹیریل نکلوا لیا گیا حالانکہ ڈیمانڈ نوٹس جمع ہو چکا تھا۔ ہوٹل کے لیے کوئی علیحدہ فیڈر نصب نہیں کیا گیا۔ تمام بجلی بش ولاز گرڈ اسٹیشن سے فراہم کی جاتی رہی جو B-3 کنکشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سابقہ جی ایم ٹیکنیکل اور موجودہ سی ای او آئیسکو انجینیئر خالد محمود اور سی ای او میپکو جام گل محمد نے اس عمل کو تحفظ دیا یا دانستہ نظر انداز کیا۔اس بارے میں جب خبر کو آئیسکو چیف ایگزیکٹو افیسر انجینئر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو افیسر جام گل محمد، ایس ای اپریشن امجد نواز بھٹی، جواد منصور کو بھیجا گیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں