جنوبی پنجاب کے مختلف اراکین اسمبلی جو دو دو تین تین مرتبہ اسمبلیوں کے ممبر رہ چکے ہیں ان میں سے چند نے اپنے اپنے حلقے میں غیر محسوس انداز میں نیو ٹرل لوگوں کے ذریعے کچھ سرویز کروائے ہیں جن کے حیران کن نتائج نکلے ہیں۔ اور ان نتائج کی روشنی میں اب اکثر سیاستدان جو کسی نہ کسی پارٹی کے امیدوار ہوتے تھے اب وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا سوچ رہے ہیں۔کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے الیکشن میں کامیابی کی صورت میں اچھی ڈیل کر لیں گے مطلب جو بھی حکومت بنا رہا ہو گا ،اس کے ساتھ وہ شامل ہو جائیں گے۔
حالانکہ یہ بات بالکل عیاں ہو چکی ہے کہ اگلی حکومت نواز شریف کی بن رہی ہے اور میڈیا کھل کر اس پر بات کر رہا ہے اور جو بڑے بڑے تجزیہ نگار ہیں وہ دعوے کر رہے ہیں کہ اگلی حکومت صرف اور صرف میاں نواز شریف کی ہوگی ۔ مگر اس کے باوجود عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے بہت سے جنوبی پنجاب کے الیکٹ ایبلز سیاستدان جو کہ ممبران اسمبلی بھی رہ چکے ہیں وہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہیںکہ کسی بڑی پارٹی مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی کا ٹکٹ لینے کی بجائے آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میںاترا جائے۔ اور کوشش کی جائے کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز کو کسی نہ کسی طریقے سے باور کروایا جائے کہ وہ جیت کر اپنے ووٹ پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال دیں گے۔
اس قسم کی پلاننگ ملتان ، وہاڑی ،رحیم یار خان،بہاولپوراور ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر شہروں میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اور جتنے بھی لوگوں نے سروے کروائے ہیں ان میں خاموش ووٹ تھے جو کہ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہی اشارہ دیا جا رہا ہے کہ ہرصورت میں الیکشن آزاد حیثیت سے لڑا جائے اور بعد میں حکومت بنانے والی پارٹی کیساتھ شامل ہوکر ووٹ اسی کو دیا جائے۔ قوم ڈیجیٹل کو جو معلومات ملی ہیں اس میں بڑے جگادری اور تجربہ کا ر سیاستدان بھی اس وقت ڈبل مائنڈڈ ہیں اور وہ بھی ابھی تک کسی واضح صورتحال تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ مستقبل کا نقشہ ان کے سامنے واضح نہیں ہورہا۔ بہت سے سیاستدان تو الیکشن کے انعقاد پر اعلان کے باوجود شک کا اظہار کر رہے ہیں کہ انتخابات ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔ اور بہت سے لوگ کسی پارٹی کا حصہ بننے کی بجائے آزاد حیثیت سے انتخابات لڑنا چاہتے ہیں۔







