ملتان ( سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج وومن یونیورسٹی ایک بار پھر شدید تنازعے کی زد میں آ چکی ہے، جہاں اسسٹنٹ رجسٹرار (BPS-17) کی تقرری نے ادارے کے انتظامی ڈھانچے، شفافیت اور میرٹ سسٹم کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس تقرری کے بعد نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ سرکاری اداروں میں بھی چہ میگوئیاں زور پکڑ چکی ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار کے مطابق اسسٹنٹ رجسٹرار / اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات / اسسٹنٹ خزانچی (BPS-17) کے لیے واضح معیار مقرر کیا گیا تھا اس کے مطابق HEC سے منظور شدہ جامعہ سے فرسٹ ڈویژن ماسٹر ڈگری، کم از کم 03 سال کا انتظامی تجربہ کسی یونیورسٹی یا قومی / بین الاقوامی ادارے میں ہونا ضروری ہے۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ اور موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق اسسٹنٹ رجسٹرار تعینات کیے گئے امیدوار صہیب احمد کے تعلیمی و تجرباتی کوائف کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتے ہیں ان میں ماسٹر / ایم فل ڈگری سیکنڈ ڈویژن میں ہونے کی نشاندہی، تعلیمی پس منظر میں پرائیویٹ ادارے شامل، جس میں تجربہ زیادہ تر فارماسیوٹیکل کمپنی میں خدمات بطور میڈیکل آفیسر (جبکہ ایم بی بی ایس جیسی متعلقہ پیشہ ورانہ ڈگری کا ذکر ریکارڈ میں واضح نہیں) اور سیلز اور نجی کالج مینجمنٹ تک محدود ہے۔ روزنامہ قوم کی قانونی ماہرین کی ٹیم کے مطابق یہ تجربہ نہ تو اشتہار میں درج “Relevant Administrative Experience” کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی اسے یونیورسٹی سطح کے انتظامی تجربے کے مساوی قرار دیا جا سکتا ہے یہ وہ بنیادی سوال ہے جو یونیورسٹی انتظامیہ، خاص طور پر رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کے کردار پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اشتہار میں درج فرسٹ ڈویژن کی شرط کو نظرانداز کیا گیا، غیر متعلقہ تجربے کو متعلقہ تجربہ قرار دے کر قبول کیا گیا، میرٹ پر پورا اترنے والے دیگر امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ تمام عوامل اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ تقرری کا عمل قانون سے زیادہ مرضی اور پسند ناپسند کے تابع رہا۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اطلاعات کے مطابق صہیب احمد کو بعد ازاں ڈپٹی رجسٹرار کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا، جبکہ اب وہ اس اعلیٰ انتظامی عہدے پر ریگولر تقرری کے لیے بھی امیدوار ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق ڈپٹی رجسٹرار جیسے عہدے کے لیے یونیورسٹی سطح کا ثابت شدہ انتظامی تجربہ، قواعد و ضوابط سے مکمل واقفیت اور میرٹ پر بے داغ تقرری بنیادی تقاضے ہوتے ہیں، جو اس کیس میں بدستور سوالیہ نشان ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف یونیورسٹی کے سروس رولز اور اشتہاری شرائط کی ممکنہ خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ان درجنوں اہل امیدواروں کے حقِ میرٹ پر بھی کاری ضرب ہے جو تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود نظرانداز کیے گئے۔ اساتذہ، ملازمین اور سول سوسائٹی کی جانب سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس تقرری کے تمام مراحل کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔ تعلیمی اسناد اور تجربہ سرٹیفکیٹس کی آزاد تصدیق کروائی جائے۔ خلافِ قانون ثابت ہونے کی صورت میں تقرری کو فی الفور کالعدم قرار دیا جائے۔ تقرری کی منظوری دینے والے افسران کے کردار کا تعین کیا جائے یہ معاملہ کسی ذاتی عناد کا نہیں بلکہ قانون، آئین اور میرٹ کے تحفظ کا ہے۔ سرکاری جامعات عوامی امانت ہیں، اور یہاں ہونے والی ہر تقرری کا شفاف، قانونی اور میرٹ پر مبنی ہونا ریاستی ذمہ داری ہے۔ اس بارے میں خبر پر موقف کے لیے یونیورسٹی پی آر او نائمہ بھٹی اور اسسٹنٹ رجسٹرار صہیب احمد کی جانب سے کوئی موقف موصول نہ ہو سکا۔







