ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں پٹواری بھرتیوں کا سکینڈل محض ایک فرد یا ایک تقرری تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ معاملہ انتظامی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قانون کی کھلی تذلیل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس سکینڈل میں ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جس میں اپوائنٹنگ اتھارٹی کے کردار نے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ قانون کے تحت پٹواری کی بھرتی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان سیمل مشتاق بطور اپوائنٹنگ اتھارٹی پابند تھیں کہ سب سے پہلے اخباری اشتہار جاری کیا جاتا، اس کے بعد امیدواروں سے درخواستیں وصول کی جاتیں، پھر تحریری ٹیسٹ لیا جاتا اور ٹیسٹ پاس کرنے والے امیدواروں کا انٹرویو ہوتا۔مگر حیران کن طور پر اس پورے قانونی فریم ورک کو ایک جھٹکے میں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ اس میں اپنے من پسند شخص کو بھاری بھرکم رقم کے عوض نوازنے کے لیے نہ کوئی اخباری اشتہار دیا گیا، نہ ٹیسٹ لیا گیا اور نہ ہی میرٹ لسٹ بنائی گئی بلکہ براہِ راست انٹرویو کا ڈرامہ رچا کر تمام قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے پٹواری بھرتی کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف پنجاب لینڈ ریونیو رولز کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے اس مستقل مؤقف سے بھی متصادم ہے جس میں سرکاری بھرتیوں میں اشتہار اور میرٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس تمام تر غیر قانونی کارروائی کی اصل ذمہ داری سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر پر عائد ہوتی ہےجو اس وقت سیکرٹری جنگلات پنجاب کے عہدے پر فائز ہیں۔ ذرائع کے مطابق بغیر قانونی تقاضے پورے کیے پٹواری بھرتی کے احکامات جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو قانون سے لاعلمی کا مظاہرہ کیا گیا یا پھر جان بوجھ کر قانون کو پامال کیا گیا۔ یاد رہے کہ بدنام زمانہ پٹواری ریاض جہانگیر نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل خود کو جان بوجھ کران فِٹ قرار دلوایا، جعلی و غیر منظور شدہ ادارے کے پٹوار کورس ڈپلومے کے ذریعے اپنے بیٹے اسد جہانگیر کو پٹواری بھرتی کروایا اور لاہور ہائی کورٹ کی محض ایک ڈائریکشن کو مکمل عدالتی حکم بنا کر بھاری بھرکم رقم کے عوض نوازا گیا۔ اس تمام عمل کے دوران جن افسران نے قانون کے مطابق مزاحمت کی، انہیں اے سی آر خراب کرنے اور کیریئر تباہ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں تاکہ غیر قانونی تقرری کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یہی مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والا پٹواری چار پٹوار سرکلوں پر قابض ہے، منافع بخش موضع جات اس کے حوالے کیے گئے ہیں اور وہ کھلے عام اوپر تک حصہ پہنچانے کا دعویٰ کرتا ہےاور چار موضع جات ٹھیکے پر چل رہے ہیں۔ یہ سکینڈل اب محض پٹواری کی کرپشن نہیں رہا بلکہ اپوائنٹنگ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر آفس اور پورے ریونیو سسٹم کے کردار کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ اس بارے میں سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر نے کوئی جواب نہ دیا۔







