تازہ ترین

ویمن یونیورسٹی ملتان: 5 کروڑ کا کمپیوٹر سکینڈل، وی سی بچ نکلی، اسسٹنٹ خزانچی قربانی کا بکرا

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی بدعنوانی، جعل سازی اور طاقت کے ناجائز استعمال کی ایک اور ہولناک کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہےجس میں غیر قانونی و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے بارے میں تصدیق شدہ شواہد موجود ہیں کہ انہوں نے اپنی مبینہ غلط پالیسیوں اور فیصلوں کا ملبہ ایک معصوم اور بے گناہ افسر اسسٹنٹ خزانچی ریحان قادر پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے کمپیوٹرز کی خریداری کا معاملہ جو ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے اپنے دورِ اقتدار میں انجام پایا بعد ازاں ریحان قادر پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تاکہ ذمہ داری وائس چانسلر کے کندھوں سے اتر سکے بعد ازاں پہلے ان کا ٹرانسفر کنٹرولر امتحانات متی تل کیمپس کیا گیا مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ایک بے گناہ اسسٹنٹ خزانچی ریحان قادر کو دوبارہ خزانچی آفس تعینات کرنا پڑا۔ اس مقصد کے لیے سنڈیکیٹ کو مینج کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر جب سنڈیکیٹ کو مکمل طور پر ہموار نہ کیا جا سکا تو ایک اور مبینہ خطرناک راستہ اختیار کیا گیا۔ دستاویزی شواہد کے مطابق سنڈیکیٹ کے ایجنڈا اور منٹس میں سنگین ردوبدل کیا گیا۔ جو نکات منظور نہیں ہوئے انہیں منظور شدہ لکھ دیا گیا اور جو منظور تھےانہیں غیر منظور شدہ ظاہر کیا گیا۔ یہ مبینہ جعل سازی اس حد تک سنجیدہ تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، لا ڈیپارٹمنٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ نے باضابطہ طور پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ذمہ داری کے تعین کی ہدایات جاری کیں۔ صورتحال اس نہج تک پہنچی کہ پوری سنڈیکیٹ کو ہی Null & Void قرار دینا پڑامگر حیران کن طور پر آج تک یہ طے نہ ہو سکا کہ اس جعل سازی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اس پورے معاملے پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا ماضی بھی متنازع رہا ہے، جن پر تاریخِ پیدائش دو مرتبہ دھوکے سے گورنمنٹ جاب کو طول دینے کے لیے تبدیل کرانے، جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر تقرری، نجی کالج کے تجربے پر نا اہل ہونے کے باوجود پروموشن اور سلیکشن بورڈ کو گمراہ کرنے جیسے سنگین شواہد موجود ہیں۔ اسی طرح سیلاب فنڈ، سیرت کانفرنس اور گرینڈ گالا کے معاملات میں بھی براہِ راست رقوم وصول کرنے کے الزامات سامنے آئے، جن میں مبینہ طور پر ان کے ذاتی جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس دونوں شامل ہیں۔ ان تمام تنازعات کے باوجود بے قصور ملازمین کے ایڈوانس انکریمنٹس کاٹنے کی کوشش کی گئی، جسے لاہور ہائی کورٹ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسٹے آرڈر جاری کر دیا۔ ریکارڈ کے مطابق ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور کمشنر ملتان کی جانب سے شو کاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے، مگر دو سال گزرنے کے باوجود نہ انکوائری مکمل ہوئی، نہ کوئی عملی کارروائی سامنے آئی۔ یہ تمام صورتحال وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس واضح ویژن سے متصادم دکھائی دیتی ہے جس میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس اور “ایک پائی” تک کی گنجائش نہ رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس سطح کے الزامات پر بھی کارروائی نہ ہو تو پھر یہ خاموشی کسی بڑے انتظامی بحران کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوگی؟ اب فیصلہ حکام کے ہاتھ میں ہے، کیا اس معاملے کی آزاد، شفاف اور بااختیار انکوائری ہو گی؟ یا پھر ایک اور فائل طاقت، اثرورسوخ اور خاموشی کی نذر ہو جائے گی؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں