تازہ ترین

بہاولپور : منشیات کے خاتمے کے دعوے دم توڑ گئے، بدنام زمانہ گروہ اب بھی آزاد

بہاولپور (کرائم سیل) وزیراعلیٰ پنجاب اور سی سی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کے تین روز میں منشیات کے خاتمے کے دعوے جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں پہنچتے ہی دم توڑ گئے، جہاں کاروائیاں صرف چھوٹے موٹے پڑی فروشوں تک محدود رہیں اور انہی کو منشیات کے خلاف بڑی کامیابیاں بنا کر پیش کیا گیا، جبکہ اسلحہ اور بدمعاشی کے زور پر پولیس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر منشیات بیچنے والے خیرپور ٹامیوالی کے بدنامِ زمانہ شاہ برادران جنید شاہ اور علی شاہ، اور تھانہ صدر کی حدود چھوٹا بندرہ کے رہائشی ملک افضل عرف اجی چنڑ آج بھی سی سی ڈی اور مقامی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں؛ باخبر ذرائع کے مطابق دسمبر میں وقتی طور پر انڈر گراؤنڈ ہونے کے بعد ان منشیات فروشوں نے اپنے سہولت کاروں کے ساتھ مل کر دوبارہ منشیات کا وسیع نیٹ ورک فعال کر لیا ہے، جنید شاہ اور علی شاہ بہاولپور، میلسی اور بہاول نگر میں خواتین سمیت متعدد کارندوں کے ذریعے ہول سیل منشیات سپلائی کر رہے ہیں، جبکہ اجی چنڑ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے دھندہ جاری رکھے ہوئے ہے؛ مزید یہ کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان منشیات فروشوں کے موبائل نمبرز اور کال ڈیٹا ریکارڈ کا فرانزک تجزیہ کر کے ان کے سہولت کاروں، خریداروں اور رابطہ کاروں کو بے نقاب کیا جائے اور بلاامتیاز ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے؛ ادھر اسلم کتے باز، جو پچھلے ماہ سی سی ڈی کی ایک کارروائی میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا، کا ایک بیٹا جمعہ منشیات کے مقدمات میں جیل میں ہے جبکہ دوسرا بیٹا ہارون شاہدرہ اور گردونواح میں منشیات فروشی میں مصروف بتایا جاتا ہے، اور تشویشناک امر یہ ہے کہ منشیات سکولوں اور کالجوں تک پہنچ چکی ہے، مگر بااثر نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے سی سی ڈی اور بہاولپور پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں