ملتان (سٹاف رپورٹر)ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اوکاڑہ یونیورسٹی کو جاری کردہ این او سی کے ساتھ عائد کی گئی سخت شرائط نے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین کی انتظامی ناکامیوں پر مزید مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ HEC کے مطابق یہ این او سی اس شرط سے مشروط ہے کہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں فیکلٹی کی مکمل کمی فوری طور پر پوری کی جائے اور بھرتیاں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے طے شدہ معیار اور یونیورسٹی کے ایکٹ/چارٹر کے عین مطابق کی جائیں۔ کمیشن کی واضح ہدایت کے مطابق ہر شعبہ میں کم از کم ایک پروفیسر، ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، دو اسسٹنٹ پروفیسرز اور دو لیکچررز کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ شرط دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں درجنوں شعبہ جات اس وقت قانونی اور تعلیمی تقاضوں کے برعکس، ادھوری اور غیر مستحکم فیکلٹی کے سہارے چلائے جا رہے ہیںجس سے نہ صرف تعلیمی معیار تباہ ہوا بلکہ طلبہ کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا گیا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ واقعی سنجیدہ ہوتی تو آج HEC کو این او سی کے ساتھ اس نوعیت کی شرائط عائد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین کے دور میں نہ صرف فیکلٹی بھرتیوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیا بلکہ اقربا پروری اور من پسند انتظامی فیصلوں نے ادارے کو اس نہج پر لا کھڑا کیا جہاں اب ہر ڈیپارٹمنٹ کو ازسرِ نو قانونی حیثیت ثابت کرنا پڑ رہی ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ HEC کی یہ شرط محض ایک رسمی ہدایت نہیں بلکہ ایک ڈیڈ لائن وارننگ ہے، جس پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں اوکاڑہ یونیورسٹی کے مزید پروگرامز کی بندش، این او سی کی منسوخی اور سخت قانونی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر سجاد مبین جو پہلے ہی ہراسمنٹ الزامات اور انتظامی نااہلی کے باعث متنازع ہو چکے ہیں، اس بھاری ذمہ داری کو نبھا پائیں گے یا ایک بار پھر اس کی قیمت ہزاروں طلبہ کو ادا کرنا پڑے گی؟ تعلیمی حلقوں کا متفقہ مؤقف ہے کہ فیکلٹی کی مکمل اور شفاف بھرتی کے بغیر نہ تو اوکاڑہ یونیورسٹی کا تعلیمی وقار بحال ہو سکتا ہے اور نہ ہی HEC کی یہ مشروط اجازت کسی حقیقی ریلیف میں بدل سکتی ہے۔ اگر اس شرط کو بھی ماضی کی طرح نظرانداز کیا گیا تو یہ واضح ہو جائے گا کہ اوکاڑہ یونیورسٹی کو دانستہ طور پر تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس کا براہِ راست ذمہ دار موجودہ وائس چانسلر ہی ٹھہرے گا۔







