ملتان (وقائع نگار) پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات کا پول کھل گیا: ایس ایم یو کی رپورٹ میں سنگین شکایات کا انکشاف پنجاب حکومت کی اپنی سپیشل مانیٹرنگ یونٹ (ایس ایم یو) کی ایک تازہ رپورٹ نے صوبے کے ٹیریٹری کیئر ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات کی ابتر صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1,976 مریضوں سے حاصل کیے گئے تاثرات میں سے 719 مریضوں نے مفت ادویات کی عدم دستیابی کی شکایت کی، جبکہ 622 نے ڈاکٹروں کے نامناسب سلوک کا ذکر کیا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 36 فیصد مریضوں کو مفت ادویات نہیں ملیں، جبکہ 31 فیصد نے ڈاکٹروں کی جانب سے مناسب علاج نہ کرنے کی شکایت کی۔رپورٹ، جو ‘پنجاب کے ٹیریٹری کیئر ہسپتالوں پر مریضوں کے تاثرات کے عنوان سے تیار کی گئی ہے، کو وزیراعلیٰ مریم نواز کو پیش کیا گیا ہے اور اسے اعلیٰ صحت افسران میں تقسیم کیا جا چکا ہے تاکہ کارروائی کی جائے۔ ایس ایم یو کی ٹیموں نے 11 مختلف نوعیت کی شکایات کے خلاف مریضوں سے رائے حاصل کی، جن میں بیڈز کی عدم دستیابی، سیکیورٹی گارڈز کے سخت رویے، داخلے سے انکار، عملے کی جانب سے رشوت لینے اور ناکارہ طبی آلات کی شکایات بھی شامل ہیں۔سب سے زیادہ شکایات لاہور کے میو ہسپتال سے موصول ہوئیں، جہاں 94 مریضوں نے مفت ادویات نہ ملنے کی بات کی جبکہ رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں 75 مریضوں نے اسی نوعیت کی شکایت درج کرائی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مریضوں کو نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ عملے کی بدسلوکی اور بدعنوانی بھی عام ہے، جو صحت کے شعبے میں گورننس اور احتساب کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ پنجاب میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں سنگین خامیوں کو اجاگر کرتی ہے اور فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔کیا وزیراعلیٰ مریم نواز اس معاملے پر سخت کارروائی کا حکم دیں گی تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پنجاب میں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا جا رہا ہے، لیکن مریضوں کے تاثرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی سطح پر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔







