ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر) کوہ سلیمان میں سمگلنگ مافیا کے ہاتھوں عوام یرغمال، غربت کے مارے بچے اور بزرگ ہزار روپے یومیہ پر جان جوکھوں میں ڈالنے پر مجبور ڈیرہ غازیخان کی تحصیل کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سمگلنگ اب صرف ایک غیر قانونی کاروبار نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا جبر بن چکی ہے جس نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بے رحم اور بااثر اسمگلنگ گروہوں کے باعث علاقے کے بچے، بزرگ اور غریب مرد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ محض ایک ہزار روپے اجرت پر نان کسٹم سامان پہاڑ کراس کر کے منتقل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ریاستی رِٹ کہیں نظر نہیں آتی۔مقامی ذرائع کے مطابق بے روزگاری، غربت اور طویل عرصے سے جاری سرکاری عدم توجہی نے کوہِ سلیمان کے باسیوں کو سمگلنگ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔سمگلرز خواتین، کم عمر لڑکوں اور بزرگوں کو بطور مزدور استعمال کرتے ہیں، جو موٹرسائیکلوں پر یا پیدل اپنے سروں اور کندھوں پر سامان اٹھا کر خطرناک پہاڑی دروں کو عبور کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف جان لیوا ہے بلکہ انسانی وقار کی کھلی تذلیل بھی ہے۔ذرائع کے مطابق اس منظم نیٹ ورک میں بعض مبینہ سمگلروں کے نام مسلسل سامنے آ رہے ہیں جن میں نواز بزدار، خیر محمد عرف خیر الشہانی، جہانگیر پٹھان اور منظور کھوسہ شامل ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ افراد وسیع پیمانے پر اسمگلنگ کے دھندے کو منظم انداز میں چلا رہے ہیں، تاہم تاحال ان کے خلاف کوئی مؤثر اور مثال بننے والی کارروائی عمل میں نہیں آ سکی، جس سے انتظامیہ کی سنجیدگی پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔عینی شواہد اور دستیاب ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نان کسٹم سگریٹ، الیکٹرانکس، ایرانی کنفیکشنری، خشک دودھ، پلاسٹک مصنوعات اور دیگر سامان پہلے پہاڑوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، بعد ازاں یہی سامان رکشوں اور بلوچستان سے آنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے ڈیرہ غازی خان اور پنجاب کے دیگر شہروں میں پہنچایا جاتا ہے، جہاں یہ کھلے عام مارکیٹوں میں فروخت ہوتا ہے۔انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس پورے عمل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی سطح پر یہ انکشافات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ بارڈر ملٹری پولیس، پنجاب پولیس اور دیگر متعلقہ فورسز کے بعض اہلکاروں کی مبینہ چشم پوشی یا ملی بھگت کے باعث یہ نیٹ ورک برسوں سے فعال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی کارروائیوں کے باوجود اسمگلنگ کا سلسلہ ختم ہونے کے بجائے مزید منظم ہوتا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ معاملہ محض قانون شکنی تک محدود نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی اور انسانی بحران بھی ہے۔ جب ریاست روزگار، تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو غریب عوام مجبوری میں ایسے غیر قانونی دھندوں کا ایندھن بن جاتے ہیں، جبکہ اصل فائدہ چند بااثر افراد سمیٹ لیتے ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کوہِ سلیمان میں اسمگلنگ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ساتھ ہی مقامی آبادی کے لیے متبادل روزگار، فلاحی اسکیمیں اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں۔ بصورت دیگر یہ انسانی المیہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا رہے گا۔







