تازہ ترین

بہاولپور: نیازی ایکسپریس کی غفلت، بغیر شناخت لڑکی کو ٹکٹ جاری، نیک دل خاتون نے بچالیا

بہاولپور( کرائم سیل) نیازی ایکسپریس انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور کوتاہی کے باوجود ایک معصوم زندگی کو نیک دل خاتون نے اجڑنے سے بچا لیا، گھر سے معمولی رنجش کی بنیاد پر نکلنے والی لڑکی کی گمشدگی نے جہاں مقامی پولیس تھانہ بغداد الجدید کی دوڑیں لگوا دیں وہیں پنجاب حکومت کی جانب سے بس اسٹینڈز پر جاری ٹریول ایڈوائزری اور ڈی سی آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی سامنے آ گئی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے بنائے گئے قوانین کی سرِ عام خلاف ورزی پر شہریوں نے بااثر ٹرانسپورٹ کمپنی نیازی ایکسپریس کے خلاف سخت اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ،نیازی ایکسپریس انتظامیہ کا موقف دینے سے گریز تفصیلات کے مطابق مورخہ 7 جنوری کو راؤ وحید ولد عبدالحمید نے تھانہ بغداد الجدید میں مقدمہ نمبر 29/26 بجرم 365 بی تعزیراتِ پاکستان درج کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر تھا اور اس کی والدہ اپنی بیٹی سے ملنے گئی ہوئی تھیں جبکہ گھر میں اس کی دونوں بیٹیاں عائشہ وحید اور کنول وحید بالترتیب تقریباً 10 سال اور 12/13 سال کی عمر میں موجود تھیں، اس کی بیٹی عائشہ وحید چھت پر دھوپ سینک رہی تھی کہ تقریباً تین بجے جب اس نے اٹھ کر دیکھا تو اس کی بہن کنول وحید گھر سے غائب تھی اور گھر میں موجود دو سیٹ طلائی زیورات اور 50 ہزار روپے نقدی بھی غائب پائے گئے، مدعی کے مطابق کنول وحید کے زیرِ استعمال دو موبائل نمبر تھے، جس پر اسے شبہ ہوا کہ اس کی بیٹی کو کسی نامعلوم شخص نے اغوا کر لیا ہے، واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتے ہی پولیس حرکت میں آ گئی اور بس اسٹینڈز ، ریلوے اسٹیشنز و دیگر سفری ذرائع سے ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کر دیا گیا مگر کہیں سے کوئی سراغ نہ ملا، تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بہاولپور میں قائم بااثر ٹرانسپورٹ کمپنی نیازی ایکسپریس انتظامیہ کی غفلت، لاپرواہی اور مجرمانہ خاموشی کے باعث کمسن بچی تقریباً چار گھنٹے تک بس اسٹینڈ پر موجود رہی اور اسے بغیر شناختی کارڈ اور بغیر موبائل نمبر درج کروائے ٹکٹ جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ لاہور کی جانب روانہ ہو گئی جو کہ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ بس اسٹینڈ ٹریول ایڈوائزری اور ڈی سی آرڈیننس کی صریح خلاف ورزی ہے، پولیس کے مطابق بس میں بچی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی ایک انجان جہاں دیدہ خاتون جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ لاہور کی رہائشی تھی، نے دورانِ سفر گپ شپ کے دوران بچی سے تمام حالات معلوم کیے اور اسے اپنے گھر لے جا کر بحفاظت رکھا اور فوری طور پر بچی کے والدین اور پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچی کو بحفاظت بازیاب کر لیا، جبکہ نیازی ایکسپریس کی مجرمانہ غفلت سے بڑے سانحہ سے بچت ہوگی وکمسن بچی کی بحفاظت بازیابی پر پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شہریوں نے درد مند خاتون کے مزکورہ عمل کو لائقِ تحسین کہا اور اس امر بابت بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ نیازی بس اسٹینڈ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث ایک انسانی زندگی داؤ پر لگی جو کہ سراسر ظلم ہے، جبکہ شہریوں نے نیازی ایکسپریس بس اسٹینڈ اور متعلقہ ٹرانسپورٹ انتظامیہ کے خلاف سخت اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں