دنیاپور(کرائم رپورٹر)تحصیل دنیاپور تھانہ صدر کی حدود میں بااثر افراد کی مبینہ غنڈہ گردی کا سنگین واقعہ سامنے آ گیا۔ ایم پی اے شازیہ حیات ترین کے بیٹے نصر اللہ خان ترین کے ڈیرہ پر کام کرنے والے ایک غریب مزدور کو اپنی جائز مزدوری کا تقاضا کرنے پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔متاثرہ مزدور جہانگیر ولد منظور قوم بلوچ ساکن چک نمبر 251 ڈبلیو بی کے مطابق نصر اللہ خان ترین کے حکم پر تعینات سکیورٹی گارڈز نے اسے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہو گیا۔ بعد ازاں اسے نیم مردہ حالت میں گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔متاثرہ شخص نے الزام عائد کیا ہے کہ اس سے زبردستی سفید کاغذات پر دستخط بھی کروائے گئے تاکہ بعد میں واقعے کے حقائق کو مسخ کیا جا سکے۔واقعے کے بعد پولیس اہلکار چک نمبر 251 ڈبلیو بی میں واقع متاثرہ مزدور جہانگیر کے گھر پہنچ گئے جہاں تشدد کا شکار مضروب نے تھانہ صدر دنیاپور پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا ۔واقعے کی اطلاع پر پولیس نے متاثرہ شخص کا بیان تو ریکارڈ کر لیا ہے تاہم تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا جس پر عوامی و سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے ترجمان لودھراں پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ مزدور کا بیان لے لیا گیا ہے اور میڈیکل رپورٹ موصول ہونے کے بعد حسبِ ضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔متاثرہ خاندان اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نصر اللہ خان ترین کے خلاف اس سے قبل بھی غریب مزدوروں کے حقوق غصب کرنے، دھمکیاں دینے اور تشدد جیسے سنگین الزامات پر شکایات موصول ہو چکی ہیں مگر بااثر ہونے کے باعث مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔عوامی و سماجی حلقوں نے آئی جی پنجاب، ڈی پی او لودھراں اور اعلیٰ عدالتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری ازخود نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔







