تازہ ترین

پنجاپ 2025 میں ایک کھرب کی کرپشن، گرین پروگرام میں سب سے زیادہ اجاڑا، آڈٹ رپورٹ

ملتان (سہیل چوہدری سے) پنجاب میں ایک سال میں ایک کھرب سے زائد کی کرپشن کی گئی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صوبہ پنجاب کی سال 2025 کی آڈٹ رپورٹ جاری کر دی ہےجس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے گرین مضبوط پنجاب پروگرام سمیت مختلف محکموں میں ایک سال کے دوران ایک کھرب روپے سے زائد کی مالی و انتظامی بے ضابطگیوں، کرپشن اور خوردبرد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد صوبے میں شفافیت، احتساب اور حکومتی دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق گرین پنجاب پروگرام میں سب سے زیادہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جہاں 988 ارب روپے کی کرپشن، بدانتظامی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت فنڈز کے استعمال میں شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، کئی ادائیگیاں بغیر منظوری اور مناسب دستاویزات کے کی گئیں جبکہ بعض اخراجات منصوبے کے دائرہ کار سے باہر تھے۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر ضروری اشیاء کی خریداری کے نام پر 43 ارب روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسی اشیاء بھی خریدی گئیں جن کی فوری یا عملی ضرورت موجود نہیں تھی، جبکہ خریداری کے عمل میں مسابقتی بولی کے قواعد کو بھی نظر انداز کیا گیا۔اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسی ادائیگیاں بھی کی گئیں جو قواعد کے مطابق نہیں تھیں یا جن کی اجازت ہی نہیں بنتی تھی۔ اس مد میں مجموعی طور پر 25 ارب 40 کروڑ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں سامنے آئی ہیںجنہیں آڈٹ حکام نے براہِ راست مالی بدعنوانی کے زمرے میں شامل کیا ہے۔رپورٹ میں سی سی ڈی (CCD) کے قیام کے حوالے سے بھی سنگین انکشافات کیے گئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کے مطابق سی سی ڈی بنانے کے دوران غیر باقاعدہ اکاؤنٹس کے ذریعے 40 کروڑ 42 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جو مالی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان رقوم کا درست استعمال ثابت نہیں کیا جا سکا۔ہیومن ریسورس کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق بھرتیوں، تنخواہوں، الاؤنسز اور کنٹریکٹس میں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 8 ارب 20 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی تقرریاں میرٹ کے بغیر کی گئیں اور بعض ملازمین کو غیر قانونی مراعات دی گئیں۔اسی طرح یوم سیکشن میں بھی مالی بدانتظامی کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں 9 کروڑ 95 لاکھ روپے کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سیکشن میں اخراجات کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور ریکارڈ نامکمل یا مشکوک پایا گیا۔ماہرینِ معیشت اور گورننس ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ آڈیٹر جنرل کی یہ رپورٹ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ صوبے میں حکمرانی کے نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق اگر ان اعتراضات کا بروقت جواب نہ دیا گیا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو عوامی وسائل کے ضیاع کا سلسلہ مزید بڑھے گا۔اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والی تمام بے ضابطگیوں پر فوری تحقیقات، پارلیمانی نگرانی اور نیب و اینٹی کرپشن اداروں کی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین پنجاب جیسے عوامی فلاحی منصوبوں کے نام پر ہونے والی کرپشن عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر حکومت واقعی شفافیت اور احتساب کی دعوے دار ہے تو اسے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تمام اعتراضات کا واضح اور دستاویزی جواب دینا ہوگا۔آڈٹ رپورٹ نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا ترقیاتی منصوبے واقعی عوام کی بہتری کے لیے ہیں یا پھر ان کی آڑ میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں