نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ آئی ایم ایف کو توانائی شعبے کے ٹیرف پر نظرثانی سے آگاہ کر دیا گیا، رئیل اسٹیٹ اور ری ٹیلرز سمیت مختلف شعبوں پر اضافی ٹیکس لگانے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کے 9415 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کا حصول پہلی ترجیح ہے۔ اگر ٹیکس محاصل میں کوئی شارٹ فال ہوا تو پھر اضافی اقدامات کا سوچیں گے۔ حکومت نے 1اعشارئی5 ارب ڈالر کا انٹرنیشنل بانڈ کے اجرا کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ معائدے کے بعد ریٹنگ میں بہتری آئے گی، اس کے بعد بانڈ جاری کرنے پر غور کیا جائے گا، اس سال مالی عالمی بینک سے 2 ارب ڈالر فنڈز ملنے کا امکان ہے، اے ڈی بی، اسلامی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹکچر بینک سے بھی مجموعی 1 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے
انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت میں بہتری آئی ہے، مزید بہتری کیلئے بہت کام کی ضرورت ہے، پاکستان کا آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہنا ضروری ہے، اس وقت 3 ارب ڈالر کے پروگرام کی تکمیل ترجیح ہے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ وقت ملا تو آئی ایم ایف سے نئے پروگرام پر بھی بات کی جائے گی، برآمدات میں اضافے اور مقامی وسائل پیدا کرنے تک آئی ایم ایف کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔
۔







