کراچی(سٹاف رپورٹر)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں رات گئے آگ بھڑک اٹھی جس پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا جبکہ آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے زمین بوس ہوگئے جبکہ آخری حصے کے بھی گرنے کا امکان ہے، آگ لگنے سے فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق،56لاپتہ اور 22زخمی ہوگئے۔18کی حالت تشویشناک ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق عمارت میں آتشزدگی اور دو حصے منہدم ہونے کے باعث فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور20 زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔واقعہ میں دوشادی کی خریداری کیلئے آنے والے دوخاندانوں کے 12افرادبھی لاپتہ ہوگئے۔صدرمملکت آصف زرداری اوروزیراعظم شہبازشریف نے ہلاکتوں پراظہارافسوس کرتے ہوئے زخمیوں کوطبی سہولیات فراہمی کی ہدایت کی ہے۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پر تاحال قابو پایا نہ جا سکا، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا ہے، اب تک جھلسنے اور دم گھٹنے سے 6 افراد جاں بحق جبکہ 30 افراد زخمی ہوئے۔ گل پلازہ کے قریب عقبی حصے گرنے سے ایک فائر فائٹر دب کر جاں بحق ہوا۔حکام کے مطابق شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں حصہ لے رہی ہیں، عمارت کے باہر 2 اسنارکل بھی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں تاہم آگ بجھانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عمارت کی صورتحال مخدوش ہے اس لیے عمارت کے اندر داخل نہیں ہوا جا سکا، عمارت سے ملبہ ہٹانے کے بعد صورتحال واضح ہو سکے گی۔ڈی سی ساوتھ کے مطابق گل پلازہ کی عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوچکا ہے، گل پلازہ ریسکیو آپریشن مکمل کرنے میں 4 سے 6 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ گل پلازہ میں 16 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مسنگ پرسن سیل میں 16 افراد کے اندر موجود ہونے کی شکایات موصول ہوئیں جبکہ متاثرہ تاجر کے مطابق 50 سے زائد لوگ بلڈنگ کے اندر موجود ہیں۔چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اورگودام آگ کی لپیٹ میں ہیں، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائرٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق شاپنگ پلازہ پر لگی آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی جبکہ گل پلازہ میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آگ کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد اب بھی عمارت میں موجود ہیں۔ترجمان ریسکیو 1122 حسان الحسیب خان نے بتایا کہ گل پلازہ کے قریب دکانوں میں آتشزدگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فائر اینڈ ریسکیو ٹیم بمعہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی جانب سے آگ پر قابو پانے کا عمل جاری ہے۔ چیف آفیسر ہمایوں خان کا کہنا ہے آگ پر 40 فیصد قابو پالیا گیا ہے۔محمد شاہ میر خان کے مطابق رات 10:15 بجے سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی فائر بریگیڈ کو کوششیں جاری ہیں لیکن ریسکیو حکام کی کوششوں کے باوجود آگ دوبارہ بھڑک جاتی ہے۔رپورٹر کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام ابھی تک عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے ہیں جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جبکہ عمارت کے ستون وغیرہ ٹوٹ کر گرنا شروع ہو چکا ہے۔ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کرلی ہے اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوع پر روانہ کردیے گئے ہیں، انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ فوکل پرسن سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں، آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور واٹر کارپوریشن فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ترجمان واٹر بورڈ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی پر مکمل قابو پانے تک واٹر ٹینکرز کی فراہمی جاری رہے گی۔وزیرداخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر حکام کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ریسکیو کے اقدامات کریں۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گل سینٹر پہنچے اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگ لگنے کے واقعے پر بریفنگ لی جبکہ ریسکیو و امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی کیا۔گورنر سندھ نے متاثرین کے نقصانات اور بحالی کے اقدامات پر فوری ہدایات بھی جاری کیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک شاپنگ پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازا میں آتشزدگی کے باعث جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانی نقصان پر شدید افسوس ہے، غمزدہ لواحقین کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے واقعہ کی تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔







