بہاولپور (کرائم سیل) تھانہ ڈیرہ نواب کی حدود میں شادی سے ایک روز قبل باپ ،بھائیوں اور چچا کے ہاتھوں قتل ہونیوالی نوجوان لڑکی سلمیٰ جبیں کے ہائی پروفائل کیس میں پولیس کی مبینہ ڈیل کے بدلے ڈھیل، بااثر سیاسی دباؤ کے بعد سہولت کاری کے الزامات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں مقتولہ کے والد طالب حسین اور بھائی محمد ذیشان اور عثمان کو 15 جنوری کو علاقہ مجسٹریٹ احمد پور شرقیہ کی عدالت میں پیش کر کے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا، جبکہ مقتولہ کے چچا مختیار حسین کی 17 جنوری کو عبوری ضمانت میں ایک مرتبہ پھر پولیس کی مبینہ سہولت کاری سے 24 جنوری تک توسیع کے باعث روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی پولیس کے ساتھ مبینہ ڈیل کے بدلے بے گناہی کی پیش گوئی کا تاثر مزید مضبوط ہو گیا، جبکہ 25 سے 26 سال تک سلمیٰ جبیں کی پرورش کرنے والی امیراں مائی، جو مبینہ طور پر موقع کی عینی شاہد ہیں، اس کے باوجود پولیس ریکارڈ اور صفحۂ مثل سے غائب ہیں اور اعلیٰ افسران کو تفتیش کی تبدیلی اور خود مدعی بننے کے لیے دی جانے والی درخواستیں بھی تاحال ردی کی ٹوکری کی نذر ہو چکی ہیں جو کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی اس کیس سے عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے ۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمان کو 3 جنوری 2026ء کو گرفتار کیا گیا تھا اور جسمانی ریمانڈ کے دوران کرائم سین سے حاصل شدہ شواہد پی ایف ایس اے لاہور بھجوا کر ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا، جبکہ 11 جنوری کو ملزم عثمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والا 30 بور پستول بمعہ تین کارتوس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا اور ناجائز اسلحہ کا مقدمہ نمبر 10/25 بھی عثمان پر درج کیا گیا حالانکہ واردات میں کہیں بھی پستول کے استعمال کا ذکر موجود نہیں اور مقتولہ سلمیٰ جبیں کو گلا گھونٹ کر قتل کیے جانے کا امر عام ہے، جس سے اس برآمدگی پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں کہ پولیس اس سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے، اسی طرح طالب حسین کی نشاندہی پر موٹر سائیکل اور محمد ذیشان کی نشاندہی پر مقتولہ کا موبائل فون برآمد کر کے پولیس تحویل میں لے لیا گیا، تاہم تاحال چالان مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور سماجی کارکنوں نے آر پی او بہاولپور اور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اندوہناک قتل کیس کا فوری نوٹس لے کر شفاف، غیر جانبدار تفتیش کو یقینی بنائیں اور تمام ذمہ دار کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔
#JusticeForSalmaJabeen #DPOBahawalpur #Bahawalpurpolice #IGPunjab







