ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں نجی لگژری کلب اور فائیو اسٹار ریزورٹ کے بجلی کے معاملے میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جو آئیسکو چیف ایگزیکٹو افسر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو آفیسر جام گل محمد اور ایس ای ملتان امجد نواز بھٹی کی کارکردگی اور سرکاری وسائل کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ مئی 2024 سے اگست 2025 تک تقریباً 16 مہینے کے دوران نجی لگژری کلب نے تقریباً 31 لاکھ یونٹ بجلی استعمال کی، جس کا بل عام طور پر تقریباً 14 کروڑ روپے بنتا۔ لیکن حیران کن طور پر یہ 14 کروڑ روپے کبھی سرکاری خزانے میں نہیں گئے، کیونکہ آئیسکو چیف ایگزیکٹو افسر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو افیسر جام گل محمد اور ایس ای ملتان امجد نواز بھٹی کے مبینہ ملی بھگت کے نتیجے میں یہ رقم افسران، ٹھیکیدار اور پینل فراہم کرنے والی کمپنی کے درمیان تقسیم کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق جب تقسیم پر اختلاف ہوا تو حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ اصل میں یہ 14 کروڑ روپے کبھی ادا ہی نہیں ہوئے۔ اس معاملے میں مزید سنسنی خیز پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ 31 لاکھ یونٹ کو اس نجی کلب کے قریب ترین فیڈرز اور علاقوں میں لاپرواہ صارفین کے بلوں میں چپکے سے ڈال دیا گیا، کیونکہ یہ نقصان کہیں نہ کہیں تو پورا کرنا تھا۔ یہ ایک انتہائی غیر شفاف عمل ہے جو سرکاری خزانے اور عام صارفین کے حق پر براہِ راست حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ ائسکو چیف ایگزیکٹو افسر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو افیسر جام گل محمد اور ایس ای ملتان امجد نواز بھٹی کے کردار اور تعلقات کی ایک سنگین مثال بھی ہے۔ امجد نواز بھٹی، جو حال ہی میں واپڈا ٹاؤن کے صدر منتخب ہوئے ہیں، ایس ای اپریشن کے ساتھ ساتھ اپنے فرنٹ مین کے ذریعے ایک ٹھیکیداری کمپنی چلاتے ہیں، جو میپکو کے مختلف ٹھیکے لیتی ہے، اور اطلاعات کے مطابق اسی کمپنی کا ہاتھ نجی لگژری کلب کے پینل کی انسٹالیشن میں بھی مبینہ طور پر ہے۔ توانائی کے ماہرین اور سول سوسائٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ کیس ائسکو چیف ایگزیکٹو افسر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو افیسر جام گل محمد اور ایس ای ملتان امجد نواز بھٹی کی ملی بھگت اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی ایک سنگین مثال ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نیپرا، وفاقی وزارت توانائی اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان فوری طور پر فرانزک آڈٹ کروائیں، تاکہ فیڈر میٹریل کی فراہمی، تنصیب اور بجلی کے بل کے اصل ریکارڈ منظر عام پر آئے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس معاملے نے واضح کر دیا ہے کہ آئیسکو چیف ایگزیکٹو افسر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو افیسر جام گل محمد اور ایس ای ملتان امجد نواز بھٹی کس طرح سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے، نجی مفادات کے تحفظ اور عوامی اعتماد کو مجروح کرنے میں ملوث ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے معاملات میں احتساب اور انصاف کے لیے کب اور کس طرح اقدامات کیے جائیں گے، اور کیا واقعی ائسکو اور میپکو میں اعلیٰ افسران کی ملی بھگت کے خلاف کوئی سخت کارروائی کی جائے گی۔ یاد رہے کہ آئیسکو چیف ایگزیکٹو افسر انجینئر خالد محمود کی جانب سے موقف مانگنے پر انچارج ریسرچ سیل کے اوپر ہی بلیک میلنگ اور نیگوشییشن کے الزامات عائد کرنے کی کوشش کی گئی۔







