لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

تازہ ترین

ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی

اسلام آباد(بیورورپورٹ) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیرا طلاعات محمد علی درانی نے انکشاف کیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں عمران خان کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی سے حکومت نے اعتماد سازی کا قدم اٹھایا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) سے ایسا کوئی لیڈر وزیراعظم آسکتا ہے جس پر پی ٹی آئی کو اعتراض نہ ہو۔ یہ حکومت اور اپوزیشن میں ایک ممکنہ سیاسی مفاہمت ہوسکتی ہے جس سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کم ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ سیاسی مفاہمت سے پاکستان کا فائدہ ہوگا، معیشت اورملکی نظام میں بہتری آئے گی، معرکہ حق کے بعد دنیا میں پاکستان نے جو عزت کمائی، عوامی حمایت بڑھنے سے پاکستان کے آگے بڑھنے کے راستے کھل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملکی مفاد میں ہر حد تک جاسکتے ہیں لیکن اس کے لئے ڈیل کے بجائے ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔ دبائو سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا محمد نوازشریف یا کوئی اور سیاسی رہنما، پاکستان کے مفاد پر ہر سیاسی لیڈر اور پارٹی نے اپنا کردار ادا کیا ۔ عمران خان بھی اس انکار نہیں کریں گے۔ ’’لو اور دو‘‘ کے بجائے انصاف پر مبنی حل نکالنا ہوگا۔محمد علی درانی نے کہا کہ عمران خان سے جیل میں ملاقات اور مفاہمت کے حوالے سے کردار کی بات نیک نیتی اور پاکستان کے مفاد کی خاطر کی ۔ میرا ذاتی کوئی مفاد نہیں۔ مفاہمت کے لئے پاکستان کے مفاد میں تفصیلی سیاسی روڈ میپ بھی دے سکتا ہوں جس میں کچھ چھپا نہیں ہوگا بلکہ سب نکات واضح ہوں گے۔محمد علی درانی نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختون خوا کا پنجاب اور سندھ کا دورہ حکومت کے اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ختم کرکے حکومت اس عمل کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے جبکہ اپوزیشن کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سرگرمیاں کرے، قانون ہاتھ میں نہ لے۔ حکومت ڈاکٹر یاسمین راشد، بشریٰ بی بی سمیت دیگر سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی ماحول میں تنائو مزید کم کرسکتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر کھڑی حکومت ایک غلطی یہ کررہی ہے کہ اپنی ناکامیاں اپنے سہارے کے سر ڈال رہی ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے اورحکومت کو اس خوف سے نکلنا چاہیے کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کرکے وہ کمزور ہوجائے گی۔ یہ رویہ پاکستان کے مفاد میں نہیں، نہ ہی خود حکمران جماعت کے مفاد میں ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ 9 مئی کے نتیجے میں پاکستان کو نقصان ہوا۔ حکمران جماعت نے اس سانحے کو مخالف سیاسی جماعت کو ملک دشمن جماعت بنانے کی کوشش کے لئے استعمال کیا۔ 9 مئی میں ملوث افراد کو پندرہ دِن میں سزا ہوجانی چاہیے تھی لیکن حکومت نے ایسے مقدمات بنائے جنہیں سو سال ثابت نہیں کیاجاسکتا۔ایک قومی معاملے پردونوں طرف سےایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیانیے بنانے کی کوشش کی گئی جو پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ الذوالفقاراور طیارہ ہائی جیکنگ کی شکل میں پی ٹی آئی سے بڑا دھبہ پی پی پی پر تھا لیکن بے نظیر بھٹو صاحبہ نے کم عمری کے باوجود بڑی دانشمندی سے اس دھبے سے اپنی جماعت کو بچایا۔ پی ٹی آئی کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے۔ حکومت کو بھی مسلسل سمجھا رہے ہیں کہ اُن کے بیانیے سے پاکستان کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ چھبیس اور ستائیسویں ترامیم میں بعض نکات کے سوا دیگر تمام شقوں سے صرف حکمران جماعتوں کو فائدہ ہوا ۔سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت معاشی سطح پر کچھ نہیں کر پا رہی جس سے پاکستان کی معیشت اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہر محب وطن پاکستانی اس صورتحال سے پریشان اور دکھی ہے۔ ایک اور سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اندر لیڈروں کی کوئی حیثیت نہیں۔ پی ٹی آئی کے دو ہی لیڈر ہیں، ایک عمران خان اور دوسرے عوام ۔ پی ٹی آئی کے دیگر لیڈر نہ کچھ کرسکتے ہیں نہ بات آگے بڑھا سکتے ہیں۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی یہی کہا گیا کہ حکومت اعتماد سازی کرے اور جیل میں بیٹھے قیدیوں سے بات چیت شروع کرے تاکہ نتیجہ نکلے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بننے والے اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ عمران خان کے ریکومینڈڈ ہیں۔ دوسری طرف نوازشریف نے اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی کے لئے اپنا کردار ادا کیا جو اعتماد سازی کا ایک واضح قدم ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں