ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان بھر میں توانائی کے شعبے میں ایک نہایت تشویشناک، سنسنی خیز اور مبینہ طور پر منظم دھندے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے حکومت، واپڈا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں بعض بااثر اور بظاہر معزز افراد معمولی کرایوں پر کمرشل عمارتوں اور پلازوں کی چھتوں پر بھاری مالیت کے سولر سسٹمز نصب کروا رہے ہیں جس کے بعد نہ صرف متعلقہ پلازہ بلکہ اردگرد کی متعدد کمرشل و رہائشی عمارتوں کو بھی بجلی کمرشل ریٹ سے کہیں کم نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ مبینہ ’’سولر نیٹ ورک‘‘ اس حد تک پھیل چکا ہے کہ سرکاری بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی کے باعث حکومت اور واپڈا کو ماہانہ کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ دن کے اوقات میں جب پلازے نسبتاً فعال ہوتے ہیں، سولر سے بجلی پیدا کر کے استعمال کی جاتی ہے جبکہ رات کے وقت جب بیشتر کمرشل پلازے بند ہو جاتے ہیں، بھاری بیٹریاں استعمال کر کے یہی بجلی مختلف ملحقہ علاقوں کو فراہم کی جاتی ہے جو سراسر قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق بعض کیسز میں جب متعلقہ محکموں کے افسران (ایکسین اور ایس ڈی اوز) کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرواتے ہیں تو بعد ازاں ’’معاملات طے‘‘ ہو جانے کے بعد وہی ایف آئی آرز ختم کروا دی جاتی ہیں۔ یوں یہ مبینہ غیر قانونی کاروبار نہ صرف جاری رہتا ہے بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پورے عمل میں ملتان بھر کے مختلف ایکسین اور ایس ڈی اوز خاموشی اختیار کر کے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے رہتے ہیںجس کے بعد قانون صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر ان مبینہ نیٹ ورکس کی شفاف تحقیقات کی جائیں تو یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ کس طرح سرکاری نظام کو کمزور کر کے چند مخصوص حلقے ذاتی فائدہ حاصل کر رہے ہیںجبکہ نقصان براہِ راست قومی خزانے اور عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ادارے واقعی اس مبینہ ’’سولر مافیا‘‘ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں گے؟ یا پھر حسبِ روایت چند علامتی اقدامات کے بعد یہ معاملہ بھی فائلوں کی نذر ہو جائے گا؟ اگر بروقت اور غیر جانبدار تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ سکینڈل نہ صرف ملتان بلکہ پورے صوبے اور پورے ملک کے توانائی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔







