ایک لاش، دو کہانیاں، کوٹ ادو حراستی کیس میں پولیس اور ڈاکٹر کا مکروہ گٹھ جوڑ آشکار

کوٹ ادو (نامہ نگار)عمران مانی پولیس حراست ہلاکت کیس نیا رخ اختیار کر گیا، ڈاکٹر کی بنائی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ مشکوک، ہسپتال میں لائی گئی لاش پر تشدد کے نشان موجود جو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ظاہر نہیں کیے گئے۔اس سلسلے میں تفصیل کے مطابق کوٹ ادو انعم بشیر اغوا کیس میں پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے غریب نائی کی موت کو طبعی موت قرار دے کر دفنا دیا گیا۔ ڈی پی او کوٹ ادو نے ورثاء کے احتجاج پر تفتیشی اے ایس آئی سعیدہ خالق سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا اور پھر پولیس اپنے پٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے میدان میں آ گئی۔اب صرف اور بچاؤ کا ایک ہی راستہ تھا، وہ تھا پوسٹ مارٹم رپورٹ۔ دباؤ، منت سماجت کر کے ڈیوٹی پر موجود ایم او ڈاکٹر اسد اللہ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ اپنی مرضی سے تیار کروائی گئی۔میڈیکل رولز کے مطابق پوسٹ مارٹم ایک سرجن ہی کرنے کا مجاز ہے مگر ایک جھوٹ پر مبنی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی، اس میں تمام جسمانی اعضاء کو فٹ قرار دیا گیا اور موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتائی گئی۔مگر حقائق چھپتے نہیں، جب لاش ہسپتال لائی گئی تو وہاں موجود ایک شخص نے اپنے موبائل کیمرے سے لاش پر تشدد کے نشانات کی تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیں، جس سے ایک بار پھر مردہ کیس زندہ ہو گیا۔ لاش پر تشدد کے نشانات تصاویر میں واضح دکھائی دے رہے ہیں، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، لوگوں میں پولیس اور ڈاکٹر کے خلاف غم و غصے کا اظہار پایا جاتا ہے اور عمران مانی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔روزنامہ قوم نے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسد اللہ سے رابطہ کیا مگر ڈاکٹر موصوف نے کال اٹینڈ نہ کی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں