ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب کی جامعات میں جاری ایک ایسا انتظامی کھیل بے نقاب ہو چکا ہے جو نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے نظام پر بدنما داغ ہے بلکہ پڑھے لکھے طبقے کی اجتماعی بددیانتی اور ریاستی نگرانی کے فقدان کا کھلا ثبوت بھی ہے۔ حیران کن، افسوسناک اور سنسنی خیز انکشافات کے مطابق برسوں سے یونیورسٹیوں میں ایک ہی مخصوص فرد کو نوازنے کے لیے ایڈیشنل چارجز کی بندربانٹ کی جا رہی ہے، قانون، اصول اور اخلاقیات تینوں کو روند دیا گیا ہے۔ اصولی طور پر ایڈیشنل چارج کا مطلب یہ ہے کہ کوئی افسر یا استاد اپنی اصل ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نبھاتے ہوئے اضافی ذمہ داری بھی عارضی طور پر انجام دے گا مگر پنجاب کی جامعات میں اس تصور کو ہی الٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل چارج لینے والے افراد نے اپنی اصل ڈیوٹیاں عملاً ختم کر دی ہیں۔ کلاس روم خالی، کورسز معاف اور تدریسی عمل قربان جبکہ ساری توجہ ایڈیشنل چارج کی کرسی اور اس سے جڑے مفادات پر مرکوز کر دی گئی ہے۔ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ متعدد یونیورسٹیوں میں رجسٹرار کی نشست پر بیٹھے اساتذہ نے باقاعدہ طور پر اپنے تمام تدریسی کورسز سے استثنیٰ حاصل کر رکھا ہےحالانکہ وہ مستقل طور پر بطور ٹیچر تنخواہ اور مراعات بھی لے رہے ہیں۔ پنجاب کی ایک یونیورسٹی میں تو صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے جہاں ایک شخص برسوں سے ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار بنا بیٹھا ہے، نہ اس نے کوئی اضافی کورس پڑھایا، نہ اپنی اصل ذمہ داریوں میں اضافہ کیامگر رجسٹرار کے تمام مالی و انتظامی بینیفٹس پوری دیدہ دلیری سے وصول کیے۔ دھوکہ دہی کا یہ کھیل یہاں ختم نہیں ہوتا۔ جیسے ہی اسی شخصیت نے پروفیسر شپ کے لیے درخواست دی تو ایڈیشنل چارج پر گزارے گئے تمام برسوں کو پروفیسر شپ کے تجربے میں بھی شامل کر لیا گیا۔ یعنی ایک طرف تدریس سے فرار، دوسری طرف انتظامی عہدے کے مزےاور تیسری طرف انہی غیر قانونی ادوار کو ترقی کا زینہ بنا لیا گیا۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ تمام معاملات نہ صرف مینج کیے جاتے ہیں بلکہ باقاعدہ طور پر’’سیٹ‘‘کیے جاتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں ایسا کوئی مؤثر میکنزم موجود ہی نہیں جو ان افراد کی جانچ پڑتال، سکروٹنی یا احتساب کر سکے۔ نتیجتاً جامعات، خود کو ’’آٹونومس باڈی‘‘یا خود مختار ادارہ قرار دے کر اپنی مرضی کے فیصلے کرواتی ہیں اور یوں اپنے ہی اداروں کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔ اس سے بھی بڑی بددیانتی یہ ہے کہ بعض جامعات میں بیٹھے وائس چانسلرز ان افراد کے ساتھ ساز باز کر کے خود بھی تمام مراعات سمیٹتے ہیں اور مخصوص اشخاص کو بھی نوازتے ہیں، جبکہ سارا ملبہ آخرکار اساتذہ اور نچلے ملازمین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں بہاولپور کی ایک یونیورسٹی کے حوالے سے جب وائس چانسلر سے سوال کیا گیا کہ آپ کی یونیورسٹی میں 30 ماہ سے ایک عارضی رجسٹرار (جو کہ ٹیچر ہے) تعینات کیوں ہے، تو جواب نہایت حیران کن تھا:’’یہ تو صرف ہماری یونیورسٹی میں نہیں، پنجاب کی ساری یونیورسٹیوں میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘‘ یہ ایک فرد یا ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر یہی’’نارمل‘‘ہے تو پھر قانون، ضابطے اور میرٹ کس لیے بنائے گئے؟ کیا جامعات علم گاہیں ہیں یا مراعات اور عہدوں کی بندربانٹ کے اڈے؟ اور کیا پنجاب کا اعلیٰ تعلیمی نظام واقعی اصلاح کے قابل ہے یا اسے دانستہ طور پر یرغمال بنا لیا گیا ہے؟ یہ سوال آج ہر باشعور شہری، ہر استاد اور ہر طالب علم کے سامنے کھڑا ہے۔







