تازہ ترین

اوکاڑہ یونیورسٹی: وی سی کا پی ایم، سی ایم پورٹک کو دھوکا، خاتون ٹیچر کا سیلیکشن بورڈ نہ تنخواہ جاری

ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ ایک بار پھر شدید انتظامی بحران اور سنگین الزامات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین پر ایک محنتی خاتون فیکلٹی ممبر کو دانستہ طور پر ذہنی اذیت، معاشی استحصال اور پیشہ ورانہ مستقبل داؤ پر لگانے کے نہایت سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔ اس پورے معاملے میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا ہنی کو ایک مظلوم، حق پر قائم اور انتظامی ناانصافی کا شکار قرار دیا جا رہا ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق ڈاکٹر شہلا ہنی نے اپنے جائز اور قانونی حق یعنی ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) کے تحت سلیکشن بورڈ کے انعقاد اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے دوران تنخواہ کی ادائیگی کے لیے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پورٹل پر شکایات درج کروائیں۔ یہ دونوں حقوق ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے واضح نوٹیفکیشنز کے تحت تسلیم شدہ ہیں۔ تاہم الزامات ہیں کہ وائس چانسلر ڈاکٹر رانا سجاد مبین نے نہ صرف ان شکایات کا قانونی اور معقول جواب دینے سے گریز کیا بلکہ ہر بار مختلف، متضاد اور غیر ثابت شدہ مؤقف اختیار کیا۔ذ رائع کے مطابق جب PM/CM پورٹل کی جانب سے بار بار وائس چانسلر سے یہ پوچھا گیا کہ ڈاکٹر شہلا ہنی کا سلیکشن بورڈ کیوں نہیں بلایا جا رہا تو وہ کسی ایک بھی ٹھوس وجہ یا دستاویز کے ذریعے اپنا مؤقف ثابت نہ کر سکے۔ اس کے برعکس الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دفاع میں ڈاکٹر شہلا ہنی کے خلاف غلط اور بے بنیاد تعلیمی اعتراضات لگا دیئےجن کا کوئی ثبوت پورٹل پر فراہم نہیں کیا گیا۔ معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ایک مرد امیدوارجس کی DTRC میٹنگ ڈاکٹر شہلا ہنی کے بعد ہوئی، اس کا سلیکشن بورڈ پہلے منعقد کر دیا گیا جبکہ ڈاکٹر شہلا ہنی کا کیس آج تک التوا کا شکار ہے۔ متاثرہ فریق کے مطابق یہ کھلا امتیاز اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضح مثال ہے، خاص طور پر اس صورتحال میں جب خود وائس چانسلر کی جانب سے آڈیو پیغامات میں اس بات کا اعتراف موجود ہے کہ ڈاکٹر شہلا ہنی کی DTRC رپورٹ مثبت تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تیسری بار PM/CM پورٹل نے وائس چانسلر سے حتمی جواب طلب کیا اور ان کے پاس تاخیری حربوں کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تو انہوں نے 27 نومبر 2025 کو اپنے ماتحت افسران پر مشتمل کو ایک خانہ پری کی پروب کمیٹی قائم کر دی، جسے ماہرین تعلیم اور قواعد و ضوابط سے واقف حلقے غیر قانونی، غیر متعلقہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔ ٹینیور ٹریک سسٹم میں ایسی کسی پروب کمیٹی کا کوئی تصور موجود ہی نہیں۔ اس کمیٹی کی تشکیل نے تنازع کو مزید سنگین بنا دیا کیونکہ الزام ہے کہ اس میں ڈاکٹر شہلا ہنی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ارشد کامران کو کنوینر مقرر کیا گیا جن کے خلاف پہلے ہی ڈاکٹر شہلا ہنی کی جانب سے وائس چانسلر کے ساتھ PM/CM پورٹل پر شکایت درج ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ کھلا Conflict of Interest ہے اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ کمیٹی کی جانب سے ذاتی فائل چیک کرنے اور دیگر دھمکی آمیز رویوں کو بھی متاثرہ فریق کی ہراسانی سے تعبیر کر رہی ہیں۔ تعلیمی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ مثبت DTRC کے بعد کسی فیکلٹی ممبر کو اس طرح کٹہرے میں کھڑا کرنا، تنخواہ روکنا اور ترقی کے آئینی و قانونی حق سے محروم رکھنا آخر کس قانون، کس ضابطے اور کس اخلاقیات کے تحت جائز ہے؟ مبصرین کے مطابق اس پورے معاملے کی تمام تر اخلاقی، انتظامی اور قانونی ذمہ داری وائس چانسلر ڈاکٹر رانا سجاد مبین پر عائد ہوتی ہےجن پر الزام ہے کہ وہ ادارے کو ذاتی انا، امتیازی فیصلوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے ذریعے چلا رہے ہیں۔ ڈاکٹر شہلا ہنی کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اور صرف میرٹ، قانون اور HEC کے قواعد کے مطابق اپنا حق مانگ رہی ہیں، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی کارروائیاں ایک باوقار تعلیمی ادارے کے وقار اور وائس چانسلر کے عہدے کے معیار کے منافی ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی حلقوں، اساتذہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ سچ سامنے آ سکے اور ایک مظلوم استاد کو انصاف مل سکے۔اس بارے میں ڈاکٹر رانا سجاد مبین کو ان کے پرسنل سیکرٹری شرجیل احمد کے ذریعے موقف کے لیے خبر بھجوائی گئی مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں