ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی اور مبینہ دھوکہ دہی کی کاریگر وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ملازمین میں غم و غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ملازمین کی جانب سے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے وسائل کا مبینہ طور پر ناجائز، غیر قانونی اور غیر اخلاقی استعمال کرتے ہوئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والے ملازمین کو کچلنے کی کوشش کی ۔ یونیورسٹی کے 80 سے زائد ملازمین سروس معاملات اور انتظامی ناانصافیوں کے خلاف حق مانگ رہے تھے، تاہم وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ان ملازمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے الٹا 8 ملازمین کے خلاف ڈویژنل بینچ میں رِٹ دائر کر دی، جسے متاثرہ ملازمین دباؤ ڈالنے، خوف و ہراس پھیلانے اور آواز دبانے کی دانستہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ یہ رِٹ یونیورسٹی کے سرکاری وسائل، وکلا کی فیس اور انتظامی مشینری استعمال کرتے ہوئے دائر کی گئی، جو کہ اختیارات کے کھلے اور سنگین مبینہ ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کو انصاف اور قانون کی پاسداری کی علامت ہونا چاہیے تھا، مگر اسے ذاتی انا کی تسکین، ذاتی مفادات کے تحفظ اور انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اہم اور چونکا دینے والا انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے 8 ملازمین کے خلاف بطور وائس چانسلر رِٹ دائر کرنے کے بجائے اپنی ذاتی کپیسٹی میں رِٹ دائر کی، جسے عدالتِ عالیہ نے یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس نوعیت کی درخواست میں قابلِ سماعت نہیں اور آپ جا کر اپنے خلاف زیرِ التوا توہینِ عدالت کے مقدمے میں انکریمنٹس سے متعلق کیس لڑیں۔ مزید یہ کہ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ملازمین کی انکریمنٹس کاٹے جانے پر عدالتِ عالیہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو توہینِ عدالت کے کیس میں طلب کر لیا ہے، جس سے وائس چانسلر کے لیے قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی ملازمین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سیکرٹری غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر و کمشنر ملتان سے درخواست کی ہے کہ ان کو عارضی و غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ظلم سے جلد از جلد نجات دلائی جائے اور خواتین یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر کے مبینہ غیر قانونی اقدامات، رِٹ دائر کرنے میں یونیورسٹی وسائل کے استعمال، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کروائی جائےتاکہ حق مانگنے والوں کو سزا دینے کے تاثر کا خاتمہ ہو اور ادارے کا وقار بحال کیا جا سکے۔







