تازہ ترین

ڈیرہ: حکومتی بے حسی، فبائلی علاقے پیاسے، انسان اور جانور ایک گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور

ڈیرہ غازیخان (بیورورپورٹ)وزیروں ، مشیروں اور مقامی عوامی نمائندوں کی مجر مانہ غفلت ،ٹرائبل ایریاز میں پینے کے صاف پانی کا بحران بدستور جاری ہے۔ اس جدید سائنسی دور میں بھی انسان اور جانور آج بھی ایک گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور ہیں جس کے باعث ٹرائبل ایریاز میں بڑے پیمانے پر خطر ناک اور جان لیوا بیماریاں پائی جاتی ہیں۔آنے والی حکومتوں کی جانب سے ان علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے اربوں روپے کی فنڈنگ کے زبانی دعوے سامنے آتے ہیں لیکن ٹرائبل ایریاز کے لاکھوں مکینوں کوآج تک صاف پانی کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکاجس کے باعث ٹرائبل ایریاز میں پینے کے صاف پانی کابحران انتہائی خطر ناک شکل اختیار کر چکا ہے۔پہاڑی علاقوں کے مکین آج بھی 20/20 کلو میٹر سنگلاخ راستوں سے گزر کرپینے کے لئےٹوبوں اور گڑھوں سے پانی بھر کر لاتے ہیں جو ارباب اختیار کےلئے انتہائی شرم کا مقام ہے۔ڈیرہ غازیخان ٹرائبل ایریاز کوہ سلیمان کے دامن میں مقامی مکینوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے لیکن قیام پاکستان سے اب تک کوئی بھی حکومت یہاں بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اس وقت بھی ڈی جی خان کے ٹرائبل ایریاز میں پینے کے صاف پانی کامسلہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے اور پانی کی شدید قلت ایک دیرینہ اور سنگین مسئلہ بن کر سامنے کھڑا ہے۔ٹرائبل علاقوں کے مکین اس جدید دور میں بھی اس گھاٹ سے پانی بھرکر پیتے ہیں جہاں سے گدھے،گھوڑے اور کتے بلے پانی پیتے ہیں۔ٹرائبل ایریاز کی مذکورہ صورت حال مقامی ایم این ایز،ایم پی ایز اور متعلقہ سرکاری افسران سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ ان علاقوں میں پانی کی فراہمی کے مناسب نظام کا شدیدفقدان ہے مذکورہ پہاڑی آبادیوں کے کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں خواتین اور بچے روزانہ کئی گھنٹے صرف پانی لانے میں گزار دیتے ہیں۔ اس صورتحال سے تعلیم، صحت اور گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہے اور یہاںصاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث آلودہ پانی استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اسہال، ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض شدت سے پھیل رہے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں میں یہ بیماریاں زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہیں۔ صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید گھمبیر ہوچکی ہے ٹرائبل ایریاز میں پینے کے پانی کا فقدان ایک ہمہ جہت مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے سنجیدہ، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ صاف پانی کی فراہمی نہ صرف صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے بلکہ پائیدار ترقی کی بنیاد بھی ہے ٹرائبل ایریاز جہاں آج بھی شعبہ صحت،تعلیم اوربہتر سفری سہولیات کا نظام وینٹی لیٹر پر ہے اور ارباب اختیار ان علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نام پر کروڑوں اربوں روپے ڈکار رہے ہیں اسی لیئے عوامی سماجی حلقوں نے مذکورہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر واسا نے کہا اگرضلعی حکام نے ہدائت دیں ٹرائبل علاقوں میں پانی کی فراہمی کے لئےاقدام کریں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں