تازہ ترین

چولستان یونیورسٹی: جعلی تجربے کے حامل وی سی کے زیر انتظام امتحانات، ڈگریاں بھی جعلی

بہاولپور(کرائم سیل)جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پروفیسر بھرتی ہو کر پرو وائس چانسلر کے عہدے تک پہنچنے والے ڈاکٹر مظہر ایاز اور غیر آئینی طریقے سے رجسٹرار کا چارج سنبھال کر مبینہ طور پر لوٹ مار میں مصروف فیصل صدیق کیخلاف مخصوص طلبہ بالخصوص وی سی کے بیٹوں کو نوازنے کے لیے امتحانی نظام کو تباہ کرتے ہوئے سادہ کاغذوں پر امتحان لینے اور پرنٹنگ کے بجٹ پر ہاتھ صاف کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں ۔یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباوطالبات کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر مظہر ایاز خود جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ والے وائس چانسلر ہیں ہمیں بھی جعلی ڈگریاں دیں گے۔ طالب علموں نے واویلا شروع کردیا۔ادھرسنگین مالی کرپشن اور بدانتظامیوں کے الزامات کے مطابق پرو وائس چانسلر کا چارج سنبھالنے کے بعد محض دو برسوں میں یونیورسٹی کو مالی اور انتظامی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مظہر ایاز کو مبینہ سہولت فراہم کرنے میں غیر آئینی طور پر رجسٹرار تعینات فیصل صدیق کا کلیدی کردار ہے، جو بیک وقت مائیکرو بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کا چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ الزامات کے مطابق یونیورسٹی کے امتحانی نظام کو دانستہ طور پر تباہ کیا گیا تاکہ مخصوص طلبہ بالخصوص پرو وائس چانسلر کے صاحبزادے—جو اسی ڈیپارٹمنٹ سے ایم فل کے طالب علم ہیںکو غیر معمولی نمبروں سے نوازا جا سکے۔انکشافات کے مطابق چولستان یونیورسٹی میں فائنل امتحانات باقاعدہ جوابی کاپیوں (Answer Sheets) کی بجائے سادہ کاغذ پر لیے جا رہے ہیں، جن پر نہ سیریل نمبر موجود ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرزِ امتحان کا نہ کوئی قانونی جواز ہے اور نہ ہی کسی تسلیم شدہ تعلیمی ادارے میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس سے نتائج میں ردوبدل اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے شدید خدشات جنم لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق جوابی شیٹس کی چھپائی کے لیے مختص فنڈز مبینہ طور پر ذاتی عیاشیوں پر خرچ کیے گئےجبکہ طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا۔ الزام ہے کہ من پسند طلبہ کو نوازنے کے لیے بعد ازاں سادہ کاغذوں پر دوبارہ امتحان لے کر ریکارڈ مکمل کیا جاتا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے اور اقربا پروری کو منظم انداز میں فروغ دیا جائے۔مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ غیر آئینی طور پر رجسٹرار کا چارج رکھنے والے فیصل صدیق نہ صرف پرو وائس چانسلر کے صاحبزادے کی فیس مختلف مبینہ اپروولزکے ذریعے ادا کر رہے ہیں بلکہ اسی طرز پر دیگر مخصوص طلبہ کو بھی ناجائز سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔موقف کے لیے جب اس معاملے پر پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر حیات سے ان کے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے خود کو اس تمام نظام سے لاعلم ظاہر کرتے ہوئے کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر خالد کا نمبر فراہم کر دیا اور ان سے موقف لینے کا کہا تاہم جب انہیں آگاہ کیا گیا کہ براہِ راست الزامات انہی پر عائد ہو رہے ہیں تو انہوں نے کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ بعد ازاں کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر خالد سے بھی واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا گیا، مگر خبر نیوز روم تک بھیجنے کے وقت تک یونیورسٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آ سکا۔عوامی و تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن، گورنر پنجاب (چانسلر) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے کر امتحانی نظام، مالی ریکارڈ، تقرریوں اور فیس ادائیگیوں کی جامع تحقیقات کرائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں