تازہ ترین

بہاولپور ریونیو آفس میں لوٹ مار، پٹہ ملکیت رجسٹریاں بغیر فیس منظور

بہاولپور (سپیشل رپورٹر) بہاولپور میں ریونیو آفیسر کی مبینہ کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب ہو گیا۔ تحصیل صدر بہاولپور میں کروڑوں روپے کی کنڈونیشن فیس کے غبن کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ متعلقہ ریونیو آفیسر پر مزید سنگین الزامات بھی سامنے آ گئے ہیں۔تفصیل کے مطابق تحصیل صدر بہاولپور میں تعینات ریونیو آفیسر محمد شہباز پاشا پر دورانِ ملازمت سنگین بدعنوانیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے مختلف رقبہ جات کی رجسٹریاں کنڈونیشن فیس وصول کیے بغیر منظور کر کے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا قانون کے مطابق سال 1951 کے بعد پٹہ ملکیت کے تحت جاری ہونے والے تمام رقبہ جات پر کنڈونیشن فیس لاگو ہوتی ہے، تاہم الزام ہے کہ محمد شہباز پاشا نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے متعدد رجسٹریوں میں یہ فیس وصول ہی نہیں کی۔ ان رجسٹریوں میں کھاتہ نمبر 128 (پٹہ ملکیت، سال 1959)، کھاتہ نمبر 150/2 (پٹہ ملکیت، سال 2021) اور کھاتہ نمبر 175 (پٹہ ملکیت، سال 1969) شامل ہیں، جو قواعد کے مطابق کنڈونیشن فیس کے دائرہ کار میں آتے تھے قواعد کے تحت کسی بھی رقبہ کی حیثیت یا منتقلی میں تبدیلی کی صورت میں کنڈونیشن فیس کی وصولی لازم ہے، مگر مبینہ طور پر مذکورہ افسر نے بھاری رشوت کے عوض نہ تو یہ فیس وصول کی اور نہ ہی مشترکہ رقبہ جات میں قبضہ جات کو مدنظر رکھا۔ اس مبینہ کرپشن کے نتیجے میں حکومتِ پنجاب کو لاکھوں روپے کی آمدن سے محروم ہونا پڑا معاملہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اسسٹنٹ کمشنر صدر بہاولپور فوری طور پر تحقیقات کریں، غبن کی گئی کنڈونیشن فیس کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائیں، اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث ریونیو آفیسر محمد شہباز پاشا کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں سروس سے برطرف کیا جائے۔اس کرپشن کے حوالے سے بہاولپور کے شہری نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو تحریری درخواست بھی ارسال کر دی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں