ملتان (وقائع نگار) پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ ،اپنےہی منصوبےکلینک آن ویلز، فیلڈ موبائل ہیلتھ یونٹس اور دیہی ایمبولینس سروسز بھی نجی شعبے کے حوالےکرنےکی تیاری کرلی ۔ محکمہ صحت پنجاب نےکلینک آن ویلز، فیلڈ موبائل ہیلتھ یونٹس اور دیہی ایمبولینس سروسز کی انتظامی اور عملی ذمہ داریاں نجی کنٹریکٹرز کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس فیصلے کے تحت صوبہ بھر میں موجود 791 کلینک آن ویلز یونٹس، 590 دیہی ایمبولینسز اور 111 فیلڈ موبائل ہیلتھ یونٹس نجی شعبے کے زیر انتظام آ جائیں گے۔ سرکاری حکام کے مطابق نجی کمپنیوں سے درخواستیں جنوری 2026 تک طلب کی گئی ہیں اور اس عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم ان صحت منصوبوں کی کارکردگی اور افادیت میں نمایاں بہتری لائے گا۔ ان کے بقول نجی شعبے کی شراکت سے دیہی اور دور دراز علاقوں میں عوام کو بہتر، تیز اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں گی۔ حکومت کا مقصد صحت کی فراہمی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، اور نجی کمپنیوں کی انتظامی مہارت اور وسائل اس مقصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے تحت صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کا حصہ ہے۔ کلینک آن ویلزپروگرام جو پہلے ہی صوبے کے تمام اضلاع میں مفت علاج کی فراہمی کا ذریعہ بن چکا ہے اور لاکھوں افراد مستفید ہو چکے ہیں، اب نجی شراکت سے مزید توسیع اور بہتری کی جانب گامزن ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ نجی کنٹریکٹرز کے ذریعے یونٹس کی دیکھ بھال، عملے کی تربیت، ادویات کی بروقت دستیابی اور جدید آلات کی فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔ تاہم حکومت صحت کی سہولیات کو مفت یا کم قیمت پر عوام تک پہنچانے کی پالیسی پر قائم رہے گی۔یہ اقدام صحت کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہےجو پنجاب میں صحت کی بہتر رسائی اور معیار کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔







