ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں ایچ ای ڈی اور کمشنر ملتان کی طرف سے جواب طلبی کے باوجود شدید انتظامی بحران، مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، قواعد و ضوابط اور قوانین سے کھلواڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے اقدامات نے نہ صرف اعلیٰ تعلیمی حلقوں بلکہ صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے لیے بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا بطور اسسٹنٹ پروفیسر، پھر پروفیسر اور بعد ازاں پرو وائس چانسلر بننے کا پورا سفر پہلے ہی دن سے غیر قانونی و غیر اخلاقی رہا جبکہ ریگولر وائس چانسلر نہ ہونے کے باعث انہیں عارضی وائس چانسلر تعینات کیا گیا جس کے بعد یونیورسٹی میں مبینہ طور پر لاقانونیت، من مانی اور پسند و ناپسند پر مبنی فیصلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستان کی جامعات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا انوکھا اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے کہ جہاں دیگر جامعات کے ریگولر وائس چانسلرز بھی پرو وائس چانسلر کے لیے پینل بھجوانے سے گریزاں ہیں، وہیں خواتین یونیورسٹی ملتان کی عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے نہ صرف اپنے پرو وائس چانسلر کے ٹینیور کے اختتام سے چند روز قبل بلکہ نئے ریگولر وائس چانسلر کی متوقع تعیناتی سے عین پہلے، مبینہ طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں اپنی’’لائن سیٹ‘‘ کر کے نئی پرو وائس چانسلر کے لیے تین ناموں پر مشتمل پینل خود تیار کرکے ارسال کر دیا۔ مزید یہ کہ اسی مبینہ پینل میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنا نام خود ہی سب سے اوپر درج کرکے اگلی پرو وائس چانسلر کے طور پر خود ہی اپنی سفارش کر ڈالی جسے روزنامہ قوم کے قانونی ماہرین کھلے مفاداتی ٹکراؤ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام نہ صرف یونیورسٹی ایکٹ اور گورننس رولز کی روح کے منافی ہے بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ساکھ پر بھی کاری ضرب ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اس سے قبل ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو شوکاز نوٹس جاری کر چکا ہے، تاہم مبینہ طور پر انہوں نے اس نوٹس کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا کہ ’’اس طرح کے شوکاز تو آتے ہی رہتے ہیں‘‘، جو خود ریاستی اتھارٹی کی کھلی تضحیک کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین یونیورسٹی ملتان میں یہ بات کھلے عام کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے بقول ان کی اجازت کے بغیر کوئی ریگولر وائس چانسلر تعینات نہیں ہو سکتاجبکہ اسی نوعیت کی مبینہ دھمکیاں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھی دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر ان کے پرو وائس چانسلر کے کیس کی منظوری نہ دی گئی تو وہ نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے عمل کے خلاف ہائی کورٹ سے حکمِ امتناع (سٹے آرڈر) حاصل کر لیں گی جسے ماہرین تعلیم صوبائی حکومت کو بلیک میل کرنے کی ایک خطرناک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اب یہ معاملہ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے کہ آیا وہ اس مبینہ غیر قانونی اور متنازع پینل کے معاملے پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہیں یا ماضی کی طرح ایک بار پھر سنگین الزامات کے باوجود ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو کھل کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی انکوائری کرکے ذمہ داران کا تعین کیا جائے بصورتِ دیگر خواتین یونیورسٹی ملتان انتظامی انتشار اور قانونی بحران کی علامت بن کر رہ جائے گی۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کے پروسیجر کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تدریسی تجربہ ویسے ہی شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح انہوں نے دھوکہ دیتے ہوئے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے اپنے کماؤ پوت ایڈمن افیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا، سیلاب فنڈز اور کانفرنسز کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ پردہ پوشی سے غیر قانونی ناجائز، جعلی اور مالی بے قاعدگیوں میں ملوث وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔ اور مبینہ طور پر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی QUO WARRANTO میں کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں یونیورسٹی کی پی آر او انعم اور وی سی کے کماؤ پوت محمد شفیق موقف طلب کرنے پر کوئی جواب نہ دے سکے۔







