ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ڈیجیٹلائزیشن کے بلند و بانگ دعوے ایک بار پھر سکیورٹی کی ریکارڈ نااہلی، انتظامی ناکامی اور مبینہ کرپٹ مافیا کے سامنے بے نقاب ہو گئے۔ جدید ٹیکنالوجی، کیمروں اور ای سسٹمز کے دعوے کرنے والی انتظامیہ گزشتہ روز اس وقت مکمل طور پر بے بس نظر آئی جب یونیورسٹی مسلسل 10 گھنٹے بجلی سے محروم رہی۔ بجلی کی بندش کی بنیادی وجہ مرکزی ٹرانسفارمر کی خرابی تھی، تاہم معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے موجود عملہ اور الیکٹریشن سید خان کو ریزیڈنٹ ایڈیٹر بی زیڈ یو ڈاکٹر مقرب اکبر نے چوری کے شبے میں اٹھوا کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں پولیس تفتیش کے دوران کسی قسم کی کوئی برآمدگی نہ ہو سکی، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل نااہلی چھپانے کے لیے ایک محنت کش ملازم کو قربانی کا بکرا تو نہیں بنایا گیا؟ یہ واقعہ دراصل بی زیڈ یو سکیورٹی کی مسلسل ناکامیوں کا تسلسل ہے، جسے ڈیجیٹلائزیشن کے دعوے دار اور مبینہ کرپٹ عناصر چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں قاسم ہال کا ٹرانسفارمر چوری ہوا، جبکہ اس سے قبل آر او ڈاکٹر مقرب کی آر او شپ کے مختلف ادوار میں آٹھ سے زائد ٹرانسفارمرز کی چوری کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ روزنامہ قوم سمیت دیگر ذرائع ابلاغ یونیورسٹی میں ٹرانسفارمرز، کیمرہ سسٹمز، الیکٹرانک آئٹمز اور اسٹاف کالونی میں مجموعی طور پر کروڑوں روپے کی چوریوں پر بارہا رپورٹنگ اور نشاندہی کر چکے ہیں، مگر حیران کن طور پر بی زیڈ یو انتظامیہ ان سنگین ناکامیوں پر ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ مزید انکشاف یہ ہے کہ اسی روز جب یونیورسٹی 10 گھنٹے اندھیرے میں ڈوبی رہی، تو علی ہال، انجینئرنگ فیکلٹی اور امان اللہ گجر (کنٹرولر امتحانات) کے گھر کے باہر نصب دو ٹرانسفارمرز کو چوری کی نیت سے اتار لیا گیا۔ تاہم بعد ازاں ان کو پکڑ لیا گیا، جس نے سکیورٹی سسٹم پر مزید سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران اور ملازمین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بی زیڈ یو واقعی ڈیجیٹلائز ہو چکی ہے تو پھر چور اتنے آرام سے ٹرانسفارمر کیسے اتارتے ہیں؟ کیمرے کہاں ہیں؟ سکیورٹی کہاں ہے؟ اور ہر بار ذمہ داروں کے بجائے نچلے درجے کے ملازمین کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ملازمین اور ٹیچرز کا کہنا ہے کہ بی زیڈ یو میں ہونے والی تمام ٹرانسفارمر چوریوں، سکیورٹی ناکامیوں اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ سب انتظامی نااہلی ہے یا پھر کسی منظم گروہ کا تازہ کارنامہ۔







