ملتان (وقائع نگار) کوئٹہ ڈرائی پورٹ میگا اسکینڈل 665 کنٹینرز غائب، کھربوں روپے کا قومی نقصان، کسٹمز و دیگر اداروں پر سنگین سوالاتپاکستان کی کسٹمز تاریخ میں ممکنہ طور پر سب سے بڑے سکینڈلز کا انکشاف ہوا ہے جس میں چمن بارڈر اور کراچی پورٹ سے کوئٹہ ڈرائی پورٹ منتقل کیے جانے والے کم از کم 665 کنٹینرز کے مبینہ طور پر راستے میں غائب ہونے اور ان کی سیل توڑ کر سامان نکال کر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس مبینہ منظم کارروائی کے نتیجے میں قومی خزانے کو کھربوں روپے کی کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس کا نقصان پہنچا ہے دستاویزات اور ذرائع کے مطابق یہ کنٹینرز کراچی پورٹ سے ٹرانس شپمنٹ پرمٹس (TP) کے تحت کوئٹہ ڈرائی پورٹ کے لیے روانہ کیے گئے۔ قانون کے مطابق ایسے کنٹینرز کی 15 دن کے اندر جنرل ڈیکلریشن (GD) فائل ہونا لازم ہے، تاہم ان 665 کنٹینرز کی نہ تو مقررہ مدت میں GD فائل کی گئی اور نہ ہی وہ کوئٹہ ڈرائی پورٹ پر مکمل حالت میں پہنچے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹینرز کی سیل کو راستے میں توڑ کر ان میں موجود قیمتی درآمدی سامان نکال لیا گیا اور بعد ازاں اسے مختلف شہروں کی مارکیٹوں میں فروخت کر دیا گیا معلومات کے مطابق ان کنٹینرز میں شامل سامان میںہائیڈروکاربن،فوڈ آئٹمزامپورٹڈ چاکلیٹ آئٹمزدیگر قیمتی کمرشل اشیاءشامل تھیں، جن پر بھاری کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔تحقیقات کے دوران PRAL (Pakistan Revenue Automation Limited) سسٹم سے حاصل ہونے والے ڈیٹا میں مزید تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق:یکم اپریل 2023 سے اب تک665 کنسائنمنٹسجن سے تقریباً دو ارب روپے کا ریونیو وابستہ ہےوہ تاحال کوئٹہ ڈرائی پورٹ پر کلیئرنس کے منتظر دکھائی دیتی ہیںماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں کنسائنمنٹس کا غیر واضح اسٹیٹس ہونا سسٹم میں دانستہ مداخلت یا ادارہ جاتی ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق جن کمپنیوں کا سامان ان کنٹینرز میں شامل تھا، ان میں اسٹار ایگرو انڈسٹریایم ایس عبداللہ انٹرپرائززمحمد یوسف ٹریڈرمحمد حسن پراچہ اینڈ برادرزویلکم ٹریڈر، آصف انٹرپرائززالباس اینڈ کمپنی سمیت دیگر متعدد کمپنیاں شامل ہیں ان کمپنیوں کے اربوں روپے مالیت کے سامان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 665 کنٹینرز کی سیل توڑ کر غیر قانونی طور پر مارکیٹ میں فروخت کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی ابتدائی نشاندہی کسٹم انٹیلی جنس کے انسپکٹر کو ملی انھوں نے فوری طور پر ڈائریکٹر انٹیلیجنس داؤد کو اس بارے لیٹر لکھا ڈائریکٹر داؤد نے کلکٹر کسٹم جمیل بلوچ کو بتا دیا کہ ہماری کرپشن لیک ہو گئی ہے بعد ازاں داؤد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اسے کلکٹر کسٹم تعینات کر دیا گیا ۔ یہاں تک کہ بعض افسران کو فون کالز کے ذریعے بھی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، تاہم اس کے باوجودنہ کنٹینرز روکے گئےنہ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہوئی نہ ہی کسٹمز انٹیلیجنس یا FBR کی جانب سے فوری تحقیقات کا آغاز کیا گیایہ خاموشی اس شبہے کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ معاملہ محض غفلت نہیں بلکہ منظم ملی بھگت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس کیس میں بعض اہم افسران کو خاموش رکھا گیا، جبکہ بعض جگہوں پر اہم عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں نے بھی سوالات کو جنم دیا ہے۔ مبینہ طور پر فائلوں میں ردوبدل اور کیس کو دبانے کی کوششیں بھی کی گئیں اتنے بڑے مالیاتی اسکینڈل کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ انکوائری رپورٹکوئی ذمہ داری کا تعینیا عوامی وضاحتسامنے نہیں آ سکی، جو شفافیت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔معاملے کی سنگینی کے پیش نظر مختلف سماجی، تجارتی اور حلقوں نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہاس اسکینڈل کی اعلیٰ سطحی، آزاد اور شفاف انکوائری کرائی جائےکسٹمز، PRAL، ٹرانسپورٹ اور بارڈر مینجمنٹ میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائےقومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصان کا تعین اور وصولی ممکن بنائی جائےاصل سوالات جو جواب مانگتے ہیں665 کنٹینرز راستے میں کیسے غائب ہوئےPRAL سسٹم میں کنسائنمنٹس کا اسٹیٹس کس نے اور کیوں تبدیل کیا؟15 دن میں GD فائل نہ ہونے پر الرٹ کیوں جاری نہیں ہواکن افسران نے چشم پوشی یا سہولت کاری کیفروخت شدہ سامان سے حاصل رقم کہاں گئی یہ کیس محض کنٹینرز کی گمشدگی نہیں بلکہ ریاستی نظام کی ساکھ، ادارہ جاتی احتساب اور قومی خزانے کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ اگر اس اسکینڈل کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو یہ نہ صرف کسٹمز نظام بلکہ پورے ریونیو اسٹرکچر پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔







