ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب ہارٹیکلچر ایجنسی11 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک قوانین کی غیر موجودگی کی وجہ سے گزشتہ ایک دہائی میں جو اربوں روپے ملتان سمیت پنجاب کے 11 شہروں سے وصول کر چکی ہے، کی تمام وصولیاں غیر قانونی ہیں، اگر پاکستان میں عدلیہ آزاد ہوتی اور اعلیٰ عدالتوں میں عوام کے مسائل کا حل رکھنے والا کوئی جج بیٹھا ہوتا، تو پنجاب بھر کی 11 ہارٹیکلچر ایجنسیوں کو عوام کی جیبوں سے ناجائز طور پر نکالا گیا اربوں روپے واپس کرنا پڑتا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 2012 سے اب تک 13 سال گزرنے کے باوجود پی ایچ اے کے ابھی تک پنجاب حکومت رولز ہی نہیں بنا سکی، کیونکہ پی ایچ اے ایکٹ کے تحت کسی بھی طور پر طے شدہ طریقہ کار کے مطابق کسی بھی طرح کی تشہیری فیس سرکاری طور پر نہیں لی جا سکتی، پی ایچ اے کی ویب سائٹ پر ایکٹ تو موجود ہے جس کے آرٹیکل نمبر 39،40 میں واضح ہے کہ رولز (قواعد) اور ایکٹ (قانون) کی روشنی میں ضوابط بنائے جاتے ہیں۔ اب جب کہ حکومت نے رولز (قواعد) ہی نہیں بنائے تو پی ایچ اے کسی طور پر بھی عوام سے تشہیری فیس جمع نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی بھی قسم کی طے شدہ رقم برائے تشہیر کا مطالبہ کر سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے رکھے ہیں۔ پی ایچ اے انکے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کر سکتا اور دوسری طرف پی ایچ اے ملتان کے غیر قانونی منیجنگ ڈائریکٹر کریم بخش جوتہ، جنہوں نے ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے ملتان کے طور پر اضافی چارج لیا تھا، ابھی تک منیجنگ ڈائریکٹر پی ایچ اے ملتان کے عہدے پر غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں وہ اور ان کا تمام تر عملہ قواعد و ضوابط کے برعکس تشہیری فیس لے رہا ہے۔ ڈائریکٹر مارکیٹنگ پی ایچ اے ملتان جلال الدین کے علاوہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر تنویر حسین کی تمام تر کارروائی جعلی اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ قانون کے مطابق دیکھا جائے تو پی ایچ اے کا عملہ جو اربوں روپے جمع کرتا ہے، اسے بھتہ خوری کہا جا سکتا ہے لیکن کسی بھی طور پر سرکاری واجبات نہیں کہا جا سکتا۔







