تازہ ترین

ملتان: تین دہائی سے زہریلی شراب مافیا کا ڈان خالد سین سی سی ڈی سے مقابلے میں پار

ملتان (سٹاف رپورٹر) تین دہائیوں سے جنوبی پنجاب میں جعلی اور ملاوٹ شدہ شراب کا بڑے پیمانے پر دھندہ کرنے والا سینکڑوں شراب کے مقدمات کا ریکارڈ یافتہ رسوائے زمانہ ملزم خالد سین والا شجاع آباد کے قریب سی سی ڈی سے مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا،خالد سین اندرون بوہڑ گیٹ کا رہائشی تھا جس نے جرم کی دنیا میں قدم تیس سال قبل رکھا اور شراب فروشی کے دھندے میں ملوث ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے خالد سین نے ملتان شہر سمیت پورے جنوبی پنجاب میں پنجے گاڑ لیے اور پھر ایک وقت آیا کہ جنوبی پنجاب میں صرف خالد سین ہی کی شراب دھڑلے سے فروخت ہونے لگی۔ حسن پروانہ اور اندرون شہر میں خالد نے چالو بھٹیاں لگا کر جعلی شراب کا دھندہ کیا اور بعد ازاں کبیروالہ کے قریب ایک رائس مل خرید لی اور وہاں جعلی شراب کی منی فیکٹری بنا لی۔ جہاں سے عرصہ دراز تک شراب کی ترسیل جاری رہی۔ خالد سین نے شراب کی کمائی سے سورج میانی کے علاقے میں متعدد کوٹھیاں بنائی گذشتہ چند سالوں سے خالد سین اندرون سندھ کشمور سے شراب کی کھیپ منگواتا اور جنوبی پنجاب میں سپلائی دیتا تھا شہر کے چھوٹے بڑے شراب فروش بھی خالد سین کا ہی مال بیچتے تھے ایک وقت میں تو خالد کا مال مقامی بار کے ذریعے بھی بیچا جاتا رہا ہے۔ خالد سین پاکستان میں شراب تیار کرنے والی ایک معروف کمپنی کی خالی بوتلیں ملک بھر کے کباڑیوں، جنوبی پنجاب کے متعدد شہروں کے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں سے خرید کر شراب بھر کر فروخت کرتا تھا اور جس کے پینے سے جنوبی پنجاب میں کئی سال تک عید کے موقع پر اس زہریلی شراب سے لوگ موت کے منہ میں جاتے رہے۔ تین ماہ قبل بھی سی سی ڈی نے خالد سین کو حراست میں لیا تھا لیکن فیصلہ سازوں کے آگے بااثر افراد کی سفارشات کام کر گئی تھی لیکن اس بار ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ ترجمان سی سی ڈی کے مطابق گذشتہ سے پیوستہ شب دوران گشت اور جرائم کی پڑتال و ناکہ بندی، ٹھوکر چھجو شاہ پل پر موجود تھے کہ اچانک بستی چھجو شاہ کی سمت سے دو موٹر سائیکل 125 جن پر چار افراد سوار تھے تیزی سے آئے۔ انہیں مشکوک جان کر ٹارچ اور سرکاری گاڑی کی ہیڈ لائٹ و ریوالونگ لائٹ کے ذریعے رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ انہوں نے سامنے پولیس پارٹی کو دیکھ کر پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کردی اس دوران ایک ملزم نے موٹر سائیکل چھوڑتے ہوئے پولیس پارٹی پر اندھا دھند سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس پارٹی نے سرکاری گاڑی اور قدرتی سڑک کی اوٹ لے کر حفاظت خود اختیاری کے تحت چند ہوائی فائر کئے۔جب فائرنگ کا سلسلہ بند ہوا تو حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ملزمان کا پیچھا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ 03 ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ جب کہ ایک ملزم بحالت مضروبی نیچے گرا پڑا تھا جسکے ساتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ پسٹل 30 بور پکڑا ہوا تھا جبکہ تھوڑے فاصلے پر موٹر سائیکل ہنڈا 125 گرا پڑا تھا۔ موقع پر ریسکیو 1122 کو بلوایا گیا مگر اس دوران ملزم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو چکا تھا جس کی ڈیڈ باڈی کو THQ ہسپتال شجاعباد بھجوایا گیا۔ جبکہ باقی تین ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں