تازہ ترین

بہاولپور: سیاسی شخصیت کی سابق کاٹن فیکٹری سالونٹ پلانٹ میں تبدیل، زہریلا فضلہ خطرہ

بہاولپور (افتخار عارف سے) سیاستدانوں کے چہیتے ان کے ووٹروں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے۔حالیہ جم خانہ الیکشن میں سیکرٹری کی سیٹ پر ناکامی کے باوجود طاقت کے نشے میں چور سیاسی شخصیت چوہدری عبدالستار نے جھانگی والا روڈ پر قائم سابق کاٹن فیکٹری الائیڈ انڈسٹریز کو سالونٹ پلانٹ لگا کر زہریلی فیکٹری میں تبدیل کر کے پورے علاقے کو موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پلانٹ کے لیے نہ ماحولیاتی منظوری لی گئی، نہ این او سی حاصل کیا گیا، اور نہ ہی قریبی آبادی کی رضامندی۔ اس کے باوجود یہ پلانٹ دن رات چلایا جا رہا ہے، جس سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں اور کیمیائی فضلہ قریبی آبادی پر برس رہا ہے۔ نتیجتاً بزرگ، بچے اور خواتین پھیپھڑوں، سانس اور دمے جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں کی زینت بن رہے ہیں۔محکمہ ماحولیات کی مجرمانہ خاموشی، اہلِ علاقہ کی جانب سے دی جانے والی درجنوں تحریریدرخواستیں ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات بہاولپور کی فائلوں میں دفن ہو چکی ہیں۔ سنگین انکشاف یہ ہے کہ لیبارٹری رپورٹس میں پانی اور فضلے کو زہریلا قرار دیے جانے کے باوجود ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات ڈاکٹر محمد اویس اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر انصر سیال نے کارروائی کے بجائے فیکٹری مالک کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا محکمہ ماحولیات عوامی تحفظ کے لیے ہے یا بااثر مجرموں کی ڈھال بن چکا ہے؟ زرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ماحولیات کی غفلت پر بس نہیں، بلکہ محکمہ انہار کے بعض افسران بھی اس ماحولیاتی دہشت گردی میں برابر کے شریک نکلے۔ متاثرہ بزرگ شہریوں محمد اعظم، محمد بشیر اور اللہ وسایا کے مطابق سب انجینئر انہار عبدالستار گل اور دیگر افسران نے مبینہ سودے بازی کے بعد سالونٹ پلانٹ کا زہریلا فضلہ نہر میں ڈالنے کی اجازت دی۔حیران کن امر یہ ہے کہ سوائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری بہاولپور نے اس پانی کو آبپاشی کے لیے واضح طور پر غیر موزوں قرار دیا تھا، اس کے باوجود نہر کو زہر آلود کر دیا گیا۔ اس زہریلے پانی سے فصلیں تباہ، انسان بیمار اور مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔ چند ماہ قبل ایک شہری کے پانچ قیمتی جانور، جن میں گائیں اور بھینسیں شامل تھیں، اسی زہریلے پانی کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں—مگر کسی افسر کا دل نہیں پسیجا۔ اہلِ علاقہ اور میڈیا نے متعدد بار چیف انجینئر انہار شوکت حسین ورک کو اس سنگین ماحولیاتی جرم کی نشاندہی کی، مگر آج تک نہ فیکٹری سیل ہوئی، نہ ذمہ دار افسر معطل ہوئے، اور نہ ہی زہریلے اخراج کا سلسلہ رکا۔ یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا اعلیٰ حکام واقعی بے بس ہیں یا دانستہ طور پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں؟ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سالونٹ پلانٹ کو سیل نہ کیا گیا اور ذمہ دار افسران کو معطل و گرفتار نہ کیا گیا، متاثرین کا طبی معائنہ اور مالی ازالہ نہ کیا گیا، تو یہ خاموشی خود ایک سنگین جرم تصور کی جائے گی۔ اور ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے، اہلِ علاقہ، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے حلقے مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب فوری نوٹس لیں، محکمہ ماحولیات اور انہار کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے، زہریلا فضلہ فوری طور پر بند کر کے نہری پانی کو محفوظ بنایا جائے، بصورتِ دیگر بہاولپور میں یہ ماحولیاتی قتلِ عام ریاستی ناکامی کی بدترین مثال بن جائے گا۔ماہرین کے مطابق سالونٹ پلانٹ ایک صنعتی جگہ ہوتی ہے جہاں کیمیکلز کو حل کرنے والے مادے (سالونٹس) تیار، صاف یا ری سائیکل کیے جاتے ہیں۔ یہ مادے پینٹ، ادویات، کیمیکل، آئل اور پلاسٹک انڈسٹری میں استعمال ہوتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں