تازہ ترین

رجسٹری برانچ رحیمیارخان میں کرپشن چین، ایجنٹ، ریکارڈ روم، کمپیوٹر، فیلڈ سٹاف بھی ملوث

رحیم یارخان (بیورو رپورٹ)رجسٹری برانچ رحیم یارخان میں مبینہ کرپشن سے متعلق’’ قوم‘‘میں پہلی خبر کی اشاعت کے بعد مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ انویسٹی گیشن کے دوران ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ بدعنوانی چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم چین کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس میں ریکارڈ روم، کمپیوٹر ڈیسک اور فیلڈ سٹاف تک سب شامل ہیں،ذرائع کے مطابق ہر مرحلے پر فائل کو آگے بڑھانے یا روکنے کا اختیار مخصوص افراد کے پاس ہے اور یہی اختیار رشوت وصولی کا بنیادی ہتھیار بن چکا ہے۔رجسٹری برانچ سے متعلق جانکاری رکھنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر “قوم”کو بتایا کہ رجسٹری برانچ میں کوئی بھی کام رجسٹرار عمران حفیظ کے کماؤ پتروں رجسٹری محرروں شہزاد عاشق اور ملک ظہور عباس اعوان کی مرضی اور انکےایجنٹوں کے بغیر نہیں ہوتا،رجسٹری برانچ میں زمین کے انتقالات،بیانات اور فرد کی چلت سمیت تمام سرکاری امور ایجنٹوں کے اشاروں پر کئے جاتے ہیں،رجسٹری برانچ کے احاطہ میں صبح سویر ایجنٹ مافیا کاٹن کے کپڑوں میں ملبوس ہو کر جمع ہو جاتے ہیں اور رجسٹری برانچ آنے والے ہر سائل کو گیٹ پر گلی کی نکر میں روک مک مکا کرنے کے بعد سائلین کو رجسٹری برانچ میں بھیجا جاتا ہے،ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے باوجود مینول سسٹم کی اجارہ داری قائم کر لی گئی ہے،ذرائع کے مطابق اگر کوئی شہری ایجنٹ کے بغیر براہِ راست کام کروانے کی کوشش کرے تو اس کی فائل پر اعتراضات کی ایک طویل فہرست لگا دی جاتی ہے، جس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہےکہ شہری کو ایجنٹ کے پاس واپس بھیجا جائے اور “مک مکا”کے بعد ہی شہری رجسٹری برانچ کا رخ کرے۔رحیم یارخان کے نواحی علاقہ پسن والی کے رہائشی محمد فرقان ،احسان پور کے محمد سجاد ،نورے والی کے رہائشی غلام یاسین،مڈ درباری کے رہائشی نبی بخش،مستان شاہ کے رہائشی دین محمد،چک عباس کے رہائشی ملک خوشی سمیت ویگر سائلین نے رجسٹری برانچ کے محرروں شہزاد عاشق،ملک ظہور عباس اعوان بارے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ علاقوں کا تمام ریکارڈ آن لائن ہے اور فرد ملکیت سمیت انتقالات،بیانات کی مد میں سرکاری فیسیں وصول کرنے کے ساتھ ساتھ”سیٹنگ کمیشن “بھی مانگا جاتا ہے”سیٹنگ کمیشن”دینے والے سائلین کے کیسز کی فائلیں چند گھنٹوں میں کمیشن نہ دینے والوں کی فائلیں اعتراضات کی لمبی فہرست داغنے کے بعد فائل کو ردی کی ٹوکر ی یاپھر فائلوں میں دبا دی جاتی ہے،”قوم”کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ریکارڈ روم میں فائلوں کی “گمشدگی” ایک معمول بن چکی ہے،ذرائع کے مطابق اہم فائلیں جان بوجھ کر الگ رکھی جاتی ہیں تاکہ شہری کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ایجنٹ یا متعلقہ اہلکار سے “رابطہ” کرے۔کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ جسے شفافیت کی ضمانت سمجھا جا رہا تھا، اب خود سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے،ماہرین کے مطابق اگر لاگ اِن اور تبدیلیوں کی ڈیجیٹل آڈٹ ٹریل مؤثر نہ ہو تو کمپیوٹرائزیشن کرپشن کو مزید منظم بنا دیتی ہے، جیسا کہ رحیم یارخان میں دکھائی دے رہا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ رجسٹری برانچ کے اعلیٰ افسران بظاہر لاتعلق نظر آتے ہیں، جبکہ نچلا عملہ اور ایجنٹ مافیا پوری سرگرمی سے نظام چلا رہے ہیں۔شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر سب کچھ افسران کی نظر سے اوجھل ہے تو پھر شکایات کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ذرائع کے مطابق رجسٹری برانچ کے خلاف متعدد شکایات اینٹی کرپشن اور اعلیٰ دفاتر تک پہنچ چکی ہیں، مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے کرپشن مافیا کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رجسٹری برانچ جیسے حساس ادارے میں کرپشن کو نظرانداز کیا گیا تو اس کے اثرات پورے عدالتی اور ریونیو نظام پر پڑیں گے۔ماہرین نے آزاد انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔”قوم”میں پہلی خبر کی اشاعت کے بعد شہری حلقوں، وکلا اور سماجی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ:رجسٹری برانچ رحیم یارخان میں فوری چھاپے مارے جائیںمشکوک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ آڈٹ کیا جائےایجنٹ مافیا کو دفاتر سے مکمل بے دخل کیا جائے۔سوال جو جواب مانگتے ہیں؟رجسٹری برانچ میں ایجنٹوں کو کس نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے؟ریکارڈ میں رد و بدل کی اجازت کس کے حکم پر دی جا رہی ہے؟شکایات کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں