ڈیرہ غازی خان (سپیشل رپورٹر)سودکے بدلے خواتین کی باقاعدہ بولیاں، ریٹ طےکئے جانے لگے،بااثرشخص نے مدعی کی ناک کاٹنےپر2کروڑانعام مقررکردیا۔کوہ سلیمان اور یونین کونسل مبار کی حدود میں خواتین کی خرید و فروخت کا مکروہ دھندہ جاری ہےجہاں سود خور مافیا اپنی مرضی سے لڑکیوں کی قیمتیں طے کر رہا ہے۔ سائل شیر افگن ولد محمد حنیف نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سے درخواست کی ہے کہ اس مکروہ کاروبار کو فوری بند کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔سائل کے مطابق علاقہ میں لڑکیوں کی باقاعدہ بولیاں لگائی جاتی ہیں اور ریٹ طے کیے جاتے ہیں۔ متاثرہ خواتین کے والدین انہیں سود خور مافیا کے دباؤ میں بیچنے پر مجبور ہیں۔ سائل نے بتایا کہ کئی اہل علاقہ کی بیٹیاں فروخت کی جا چکی ہیں اور گواہان اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ سائل نے اپنے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ڈپٹی کمشنرکودی گئی درخواست کے مطابق
جناب ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع ڈیرہ غازی خان
درخواست برائے روکے جانے لڑکیوں کی خرید فروخت علاقہ کوہ سلیمان یونین کونسل مبار کی بحدود تھا نہ مہار کی اور تھانہ منگلون و بنائے جانے اس بابت کمیشن با وجوہات ذیل
جناب عالی ! سائل حسب ذیل عرض پرداز ہے۔ 1 یہ کہ سائل پتہ ذیل کا رہائشی ہے اور صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہے۔سائل پریس کلب ڈی جی خان کا صدر بھی ہے اور کمیشن برائے انسانی حقوق کے لئے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
یہ کہ علاقہ کوہ سلیمان یونین کونسل مبار کی بحدود تھانہ مبار کی اور تھانہ منگلون کچھ میں سرعام لڑکیوں کی خرید فروخت ہورہی ہے۔ علاقہ کے لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح لڑکیوں، اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی خرید و فروخت کر رہے ہیں۔ سائل سینکڑوں لوگوں کونام سے جانتا ہے جنہوں نے اپنی بہن بیٹیاں فروخت کی ہے اور اس بابت بیسیوں گواہان بھی موجود ہے جو اسی علاقہ کے ہیں اور اس بابت شہادت دیں گے کہ علاقہ میں لوگ بہن بیٹیوں کو کھلے عام فروخت کر رہے ہیں۔ باقاعدہ بولیاں لگتی ہے۔ ریٹ طے کئے جاتے ہیں۔ یہ سب انسانیت کی تذلیل ہے۔ علاقہ کے لوگوں میں رتی بھر انسانیت نہ ہے۔ خواتین کا بری طرح سے استحصال کیا جارہا ہے۔ اس لئے علاقہ میں ایک کمیشن مقرر کیا جانا ضروری ہے اور لڑکیوں کی خرید و فروخت کو رو کنار یاست پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ علاقہ کے ایسے درند نے قسم کے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی اور ان کی سزادی جانی از حد ضروری ہے۔ یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے اس مکروہ دھندہ میں بااثر لوگ بھی شامل ہیں۔ سود کا دھندہ بھی عروج پر ہے۔ سود کے پیسوں کی مد میں لڑکیاں خرید کی جاتی ہیں۔ جو کہ انتہائی ظلم ہے۔ بدیں وجہ جناب والا کو درخواست دینے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ بحالات بالا استدعا ہے کہ علاقہ کوہ سلیمان یونین کونسل مبار کی محدود تھانہ مبار کی اور تھانہ منگلون میں لڑکیوں کی خرید فروخت فی الفور رو کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اس بابت کمیشن مقرر کیا جائے۔ سائل ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔ جناب کی عین نوازش ہوگی۔
شیر افگن ولد محمد حنیف قوم بز دار سکنہ بارتھی شمالی بستی گلخانی تحصیل کوہ سلیمان ضلع ڈیرہ غازی خان
دوسری جانب ایک شخص نے بلوچی زبان میں آفردی ہےکہ جوشخص شیرافگن کا ناک کا ٹےگا اسے دو کروڑ روپے انعام دونگا ۔ مقدمہ کیس اور صلح کرانے کیلئے رقم چٹی بھی دونگا۔ علاوہ ازیںخواتین کی خریدوفروخت کی کچھ تفصیلات بھی سامنےآئی ہیں جس کے مطابق یاسین در خانی نامی شخص نے سود خور مافیاسے قرض لیا بعد میں سود خوروں نے اس کی14سالہ بیٹی 55 سالہ صدیق شکارانی نامی شخص سے فروخت کروادی، زمین فروخت کر ڈالی ۔ سود خوروں کے پریشر اور تشدد کی وجہ سے یاسین اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا اور انتقال کر گیا ۔ اس کے مرنے کے بعد سود خوروں نے ان کے اہلخانہ کو اس کے گھر سے نکال کر بے دخل کیا اور مزید رقم کا مطالبہ کیا ۔ اہل علاقہ نے سود خوروں سے وہ گھر لے کر خاتون کو واپس بٹھایا مگر سود خور باز نہ آئے اور مسلسل لوگوں سے ان کی بیٹیاں فروخت کروانے کا باعث بن رہے ہیں ۔اسی سود خور مافیا نے اختر در خانی کی بیٹی کو 14 لاکھ میں شیر دادنامی شخص سے فروخت کروایا اسی طرح ظفر در خانی، محمد در خانی، جعفر در خانی نے اپنی بیٹیاں فروخت کیں۔اسی طرح وہاں کے ایک معزز اور با اثر فیض فقیر نامی شخص نے جان محمد موسیانی سکنہ تھا نہ ہنگلون کچھ کی ایک بیٹی ظفر ولدنبی بخش دعوانی کو کئی لاکھ میں فروخت کروائی جبکہ دوسری بیٹی مذکورہ شخص کی برائے فروخت ہے۔ 3 فیض فقیر نامی شخص نے دینا ولد گلزار بکھرانی کی بیٹی 23لاکھ میں انور شکلانی نامی شخص کو فروخت کروائی۔ سونا ولد جلال خان بجارانی نے اپنی دو بیٹیاں افضل ولد سونا، اور نیک محمد ولد احمد بخش بجارانی کو فیض فقیر کے ذریعے 18، 18 میں فروخت کروائی۔ایک ذہنی اور جسمانی طور پر معذور خاتون کے ساتھ اس کے بھتیجے نے جنسی درندگی کا نشانہ بناکر اسے حاملہ کر دیا۔اس خاتون سے اس حمل کو جنم بھی دیا۔ اس خاتون کیساتھ جنسی درندگی کرنے والے کیخلاف کارروائی کیا بنائی اسی خاتون کو اس کے پنچاناصر نے 14لاکھ میں فروخت کرنے کا اختیار فیضو فقیر ، اسماعیل وڈو، غلام مصطفی محرربی ایم پی تھانہ مبار کی اور حاجی علی بجکرانی کو 21 لاکھ میں صادق عرف صدو میرانی کو فروخت کیا جس میں 7 لاکھ کا منافع ان چار معززین نے حاصل کیا۔ جبکہ صادق میرانی عرف صدو نے رقم پورا کرنے کے لیے اپنی ایک بیٹی 16 لاکھ میں یوسف میرانی کو فروخت کیں۔ اسی طرح کریم نوراوانی نے اپنی دو بیٹیاں نصر اللہ اور حسو نامی شخص سے 16 لاکھ اور 13 لاکھ میں فروخت کیں۔یار محمد بکھرانی نامی شہری نے اپنی دو بیٹیاں فروخت کیں۔ پیر بخش نے اپنی ایک بیٹی 20 لاکھ میں فروخت کروائی۔ صدو ولد اللہ بخش نے اپنی بیٹی 15 لاکھ میں جبکہ غلام فرید ولد شاہ بخش نے اپنی تین بہنیں بیچ دیں۔
مزید پڑھیں: ڈیرہ: قبائلی علاقےمیں انسانی منڈی،18 متاثرہ خواتین غائب، بی ایم پی کا عملہ ملوث
ڈیرہ غازی خان (سپیشل رپورٹر)قبائلی علاقےمیں خواتین کی خریدوفروخت کا سکینڈل، BMP کا عملہ ملوث کرداروں کا سرپرست نکلا، تحقیقاتی افسر بھی بےبس نظر آنے لگے، تحقیقاتی افسر کیطرف سے سخت احکامات جاری کرنے کے با وجود بے سود ثابت، ملوث کرداروں کو بچانے کیلئے خریدوفروخت کی جانیوالی متاثرہ خواتین کو تحقیقاتی افسر کیطرف سے طلبی کے احکامات کام نہ آئے، ایس ایچ اوز نے سینئر افسر کے حکم کو سنی ان سنی کر کے متاثرین خواتین کو پیش کرنے سے انکار کردیا، تحقیقاتی افسر نے ڈیڑھ درجن کے قریب متاثرہ خواتین کو پیش کرنے کیلئے تحریری نوٹس جاری کر کے سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا لیکن مقامی پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی زرائع کے مطابق متعلقہ پولیس نے خواتین کو تحقیقاتی افسر کے روبرو پیش کرنے کو بلوچی روایت کے برعکس قرار دیکر انکوائری افسر کی حکم عدولی کر دی ذرائع کیمطابق مقامی بی ایم پی نے خواتین کی خریدوفروخت میں ملوث کرداروں کے خلاف ممکنہ کاروائی اور رسالدار کی طرف سے انکوائری رپورٹ میں تاخیر کرنے کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھیں ہوئی ہیں تحقیقاتی افسر رسالدار سردار اعجاز احمد لغاری کی طرف سے 18 متاثرہ خواتین کی طلبی کے احکامات کے باوجود ایس ایچ اوز نے کسی ایک خاتون کو پیش نہیں کیا اور تحقیقاتی افسر نے اپنی تحریری حکم میں واضح طور پر لکھا کہ عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کیلئے کمانڈنٹ کو سفارش بھیجنے کی وارننگ بھی دیدی اور مزید حکم نامہ کیمطابق تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حدود تھانہ مبارکی اور تھانہ ہنگلون کچھ میں بچوں کی خریدوفروخت کی نسبت انکوائری زیر دستخطی میں زیر کار ہے فریقین کو دفتر زیر دستخطی میں پیش کریں جن میں دختر محمد یاسین کو والد کے ہمراہ، صدیق، دختر اختر والد کے ہمراہ،دختر ظفر کو والد کے ہمراہ، دختر محمد درخانہ کو والد کے ہمراہ، دختر جعفر والد کے ہمراہ، دختر جان محمد والد کے ہمراہ، دختر دینا کو والد کے ہمراہ ، دختر سونا کو والد کے ہمراہ ، دختر نیک محمد کو والد کے ہمراہ ، بیوہ صورت خان، دختر صادق کو والد کے ہمراہ، دختر کریم نواز والد کے ہمراہ، دختر یار محمد کو والد کے ہمراہ، دختر پیربخش کو والد کے ہمراہ ، دخترصدو کو ہمراہ والد اور غلام فرید کو اپنےدو بہنوں کے ہمراہ پیش کرنے کے ساتھ اصل شناختی کارڈ بھی ساتھ لانے کی ہدایت کرتے ہوئےذاتی طور پیش کرنے کیلئے سرکل جمعدار سمیت ایس ایچ او مبارکی اور ایس ایچ او ہنگلون کچھ کو پابند کر دیا ہے۔ تحقیقاتی افسر نے حکم نامے کیساتھ نوٹ لکھتے ہوئے تحریر کیا کہ کسی قسم کی کوتاہی وسستی عدم تعمیل کی صورت میں جمعدار سرکل و دفعدارن ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے اور انکے خلاف رپورٹ کمانڈنٹ کو پیش کرنے کی بھی وارننگ دی ہے لیکن اس کے باوجود 18 خواتین میں سے کوئی پیش نہیں کیا گیا ہے جبکہ کچھ مرد پیش ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بشیر احمد اور محمد خان، عمران علی و دیگر سماجی حلقوں نے اس جاہلانہ قبائلی رسم کو آج اس جدید دور میں خواتین کی خریدوفروخت برقرار رکھنے میں متعلقہ پولیس بی ایم پی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ متعلقہ پولیس ایسے مکروہ جاہلانہ رسم کی سرپرستی کرکے ملوث کرداروں پر قانونی کاروائی کرنے کی بجائے ان کو بچانے میں ناجائز اختیارات استعمال کر کے قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں لیکن قانون پر کھلواڑ کرنے والے سرکاری ملازمین پر کاروائی کرنے کی بجائے افسران بھی خاموش تماشائی بن کر انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن چکی ہیں۔ دوسری طرف موقف لینے کیلئے تحقیقاتی افسر رسالدار اعجاز احمد لغاری سے رابطہ کیا گیا لیکن کال اٹینڈ نہ ہو سکی۔







