ڈیرہ غازی خان (ڈسڑکٹ رپورٹر ) ٹک ٹاکر عائشہ صادق بلوچ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا جس میں انہوں نےڈی پی او ڈیرہ غازی خان صادق بلوچ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے اپنی اور اپنے کمسن بیٹے کی جان کو خطرہ قرار دیا ہے۔مبینہ سابق میاں بیوی کے درمیان سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اور ان کے کمسن بیٹے کو شدید ذہنی دباؤ، ہراسانی اور خطرات کا سامنا ہے، جس پر انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام کو باقاعدہ درخواست دینے کا اعلان کیا ہے خاتون کے مطابق وہ طویل عرصے تک ذاتی مسائل برداشت کرتی رہیں اور اپنے خاندانی معاملات کو سوشل میڈیا پر لانے سے گریز کرتی رہیں، تاہم حالیہ دنوں میں ان کے بیٹے کے حوالے سے مبینہ طور پر نامناسب اور دھمکی آمیز گفتگو کے بعد وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی صحت سے متعلق حساس معاملات ہیں، جن کے طبی ریکارڈ مختلف سرکاری و نجی ہسپتالوں میں موجود ہیں، تاہم وہ ان معاملات کو عوامی سطح پر بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتیں خاتون نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں ان پر تشدد بھی کیا گیا، جس کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں، مگر انہوں نے اپنے بچے کے مفاد میں ان معاملات کو منظرِ عام پر نہیں لایا۔ ان کے مطابق اب انہیں اپنی اور اپنے بیٹے کی جان کو خطرہ لاحق ہے، اسی لیے وہ ڈی آئی جی آپریشنز کو درخواست دینے جا رہی ہیں تاکہ انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے دوسری جانب اس معاملے پر ڈی پی او ڈیرہ غازی خان صادق بلوچ نے اپنا مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ خاتون جون 2023 سے جون 2024 تک ان کی دوسری اہلیہ رہیں، جنہیں جون 2024 میں طلاق دی جا چکی ہے۔ اس رشتے سے ان کا ایک بیٹا ہے۔ ڈی پی او کے مطابق ان کی دوسری شادی اور طلاق کے حوالے سے ان کے تمام سینئر افسران اور ساتھی پہلے ہی باخبر ہیں صادق بلوچ کا کہنا ہے کہ طلاق کے بعد سے خاتون مسلسل سوشل میڈیا پر ان، ان کے خاندان اور ان کے کیریئر کے خلاف منفی مہم چلا رہی ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات جھوٹ، ابہام اور غیر ضروری تنازعات پر مبنی ہیں، جن کا مقصد محض توجہ حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خاتون پہلے بھی عدالتوں سے رجوع کر چکی ہیں جہاں ان کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے ڈی پی او کا کہنا ہے کہ یہ ایک خالصتاً خاندانی معاملہ ہے، جسے عوامی پلیٹ فارمز پر لانا غیر مناسب ہے۔ ان کے مطابق بطور سابقہ اہلیہ، خاتون نجی زندگی کی حدود کو پامال کر رہی ہیں اور میاں بیوی کے درمیان ماضی میں پیش آنے والے ذاتی معاملات کو عوامی سطح پر بیان کر رہی ہیں، جو اخلاقی اقدار کے منافی ہے معاملے کے دونوں پہلو سامنے آنے کے بعد شہری حلقوں میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ الزامات اور جوابی الزامات کے بجائے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار قانونی تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور فریقین کو انصاف مل سکے۔







