ڈیرہ غازی خان(سپیشل رپورٹر)ڈی جی خان کے قبائلی علاقہ میں خواتین کی خریدوفروخت کاسکینڈل، ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر عملدرآمد سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، کمانڈنٹ بی ایم پی کی طرف سے 14 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی حکم کوہوامیں اڑا دیا گیا، ایک ماہ مکمل ہونے پر بھی تحقیقات مکمل نہ ہوسکا، متعلقہ ایس ایچ اوز نے بااثر شخصیات کے سامنے دباؤ میں آکر گھٹنے ٹیک دیئے اور خواتین کی خریدوفروخت کے متعلق رپورٹ میں جھوٹ کا سہارا لیکر اپنے سینئر افسران کو ماموں بنانے میں کامیاب ہو گئے، سماجی حلقوں نے متعلقہ پولیس کیطرف سے حقائق کو منظر عام لانے کی بجائے فرسودہ نظام پر عملدرآمد کرنے والوں کو بچانے کےلئے متعلقہ بی ایم پی ملازمین کی کردار کو افسوسناک قرار دیا ہے اور خواتین کی خریدوفروخت میں ملوث کرداروں میں بیچنے اور خریدنے والوں سمیت بی ایم پی کے ملوث ملازمان کو بچانے کیلئے مقامی ایس ایچ اوز نے اپنے سینئر افسران کو غلط رپورٹ پیش کر کے انہیں ماموں بنا۔یا ایسے ملازمین کی کافی محکمانہ کارروائی کر کے سخت سزا سے گزار کر آئندہ دیگر کیلئے سبق آموز کہانی بنا دیا جائے متعلقہ ایس ایچ اوز کی طرف سے غلط رپورٹ پیش کرنے کے باعث تحقیقات بروقت مکمل کرنے کی بجائے تاخیر کا شکار ہے جس کی وجہ سے شہری شیرافگن کی درخواست پر 9 دسمبر کو ڈپٹی کمشنر کے حکم پر کمانڈنٹ بی ایم پی امیر تیمور نے تحریری حکم جاری کرتے ہوئے رسالدار ہیڈ کوارٹر سردار اعجاز احمد لغاری کو تحقیقاتی افسر مقرر کرتے ہوئے اندر 14 یوم تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ 14 دن 23 دسمبر کو مکمل ہوا اور آج ایک ماہ مکمل بیت گیا نہ ہی تحقیقات مکمل ہوا اور نہ ہی رپورٹ کمانڈنٹ کو پیش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بااثر قبائلی شخصیات کی دباؤ کے باعث مقامی پولیس تحقیقاتی افسر کے ساتھ تعاون کرنے سے بدستور گریزاں ہیں اب یہ دیکھنا ہو گا کہ تحقیقاتی افسر قبائلی بااثر شخصیت کے دباؤ میں آکر جھوٹ پر مبنی ملنے والی ایس ایچ اوز کی رپورٹ پر اتفاق کرینگے یا حق اور سچ پر مبنی اپنی رپورٹ تیار کر کے اس گھناونے کھیل میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے انکے کیئے کی نشاندھی کر کے کمانڈنٹ کو پیش کر سکیں گے جن کیلئے انکوائری تحقیقاتی کی رپورٹ کے لئے ہر با شعور اور درد دل رکھنے والے منتظر ہیں۔







