رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)رجسٹری برانچ رحیم یارخان میں مبینہ کرپشن کا ایک منظم اور مضبوط نیٹ ورک قائم ہوگیا،زمینوں کے انتقال،رجسٹری اور فرد کے اجراء جیسے قانونی و بنیادی امور بھی رشوت کے بغیر ممکن نہیں رہے ، انویسٹی گیشن کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق رجسٹری برانچ کے بعض اہلکاروں، کمپیوٹر آپریٹرز اور باہر بیٹھے ایجنٹ مافیا کے درمیان گٹھ جوڑ کے باعث عام شہری شدید پریشانی اور مالی نقصان کا شکار ہیں،ذرائع کے مطابق دفتر میں آنے والے سائلین کو دانستہ طور پر مختلف حیلوں بہانوں سے روکا جاتا ہے،کبھی فائل نامکمل قرار دی جاتی ہے، کبھی افسر کی عدم دستیابی کا بہانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ رشوت دینے والوں کے کام بغیر کسی رکاوٹ کے چند دنوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رجسٹری برانچ میں رجسٹری محرر شہزاد عاشق،رجسٹری محرر ملک ظہور نے درجنوں ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں جو سارا دن رجسٹری برانچ کے احاطہ اور اطراف گھومتے پھرتے ہیں اور زمینی معاملات کے حل کیلئے رجسٹری برانچ آنے والے سائلین کو راستوں میں روک کر ارجنٹ بیس پر کام کروانے کا جھانسہ دیکر ہزاروں روپے کی لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں،رحیم یارخان شہرکے نواحی علاقہ محمد پور کے رہائشی نور احمد نے بتایا کہ انکے والد کے انتقال کے بعد زرعی زمین کا انتقال کروانے کیلئے درخواست دی، مگر تین ماہ تک فائل ایک میز سے دوسری میز گھومتی رہی،ہر بار نیا اعتراض لگا دیا جاتا، آخرکار بابر نامی رجسٹری برانچ کے ایجنٹ نے رجسٹری محرر شہزاد عاشق سے ملاقات کروائی تو انہوں نے کھلے الفاظوں میں کہا کہ 50 ہزار روپے دیے بغیر فائل آگے نہیں بڑھے گی،رقم کی ادائیگی کے بعد وہی فائل، جو مہینوں سے التوا کا شکار تھی، محض تین دن میں منظور کر لی گئی۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض کیسز میں رجسٹری کے دوران دانستہ طور پر رقبہ کم یا حدود غلط درج کی جاتی ہیں،رحیم یارخان شہر کے رہائشی اللہ دتہ نے بتایا کہ رجسٹری کے بعد جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو پلاٹ کا رقبہ کم نکلا، جسے درست کروانے کیلئے دوبارہ “سیٹنگ” کا مطالبہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق رجسٹری برانچ کے باہر بیٹھا ایجنٹ مافیا مبینہ طور پر پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے، ان ایجنٹوں کے پاس نہ صرف افسران کے نام اور موبائل نمبرز ہوتے ہیں بلکہ ہر کام کی غیر اعلانیہ ریٹ لسٹ بھی موجود ہوتی ہے،عام شہری کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا جاتا ہےیا لائن میں لگے رہیں یا ایجنٹ کے ذریعے کام کروائیں،اگرچہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا مقصد شفافیت تھا، مگر انویسٹی گیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض کمپیوٹر آپریٹرز مبینہ طور پر بااثر افراد کے کہنے پر ڈیجیٹل ریکارڈ میں رد و بدل کرتے ہیں، جو مستقبل میں بڑے زمین تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ رجسٹری برانچ کے خلاف شکایت کرنا آسان نہیں، شکایت کرنے والوں کو فائلیں مزید الجھنے اور غیر اعلانیہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث اکثر افراد خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق رجسٹری اور انتقال کے عمل میں رشوت لینا سنگین جرم ہے۔ ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمہ بھی درج کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا ریاستی نظام سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔شہریوں، وکلا اور سول سوسائٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب، بورڈ آف ریونیو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹری برانچ رحیم یارخان کا غیر جانبدار اور شفاف آڈٹ کروایا جائے، ایجنٹ مافیا کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے اور ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔







