ملتان(سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان میں انکریمنٹس کی کٹوتی کے خلاف سراپا احتجاج فیکلٹی اور ملازمین کے دباؤ کے سامنے مبینہ طور پر غیر قانونی حیثیت سے کام کرنے والی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ایک اور چال کھیلتے ہوئے ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر حاصل کرنے والے ملازمین کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔ باخبر ذرائع کے مطابق انکریمنٹس کی بندش سے متاثرہ ملازمین کے سامنے وائس چانسلر نے ایک جانب نرمی کا تاثر دینے کی کوشش کی تو دوسری جانب انہیں مختلف مشوروں اور بیانات کے ذریعے الجھانے کی حکمتِ عملی اپنائی گئی جس کا بنیادی مقصد نئی ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی سے قبل فیکلٹی اور ملازمین کی آواز کو دبانا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پوری حکمتِ عملی کے پیچھے یونیورسٹی کے ایڈمن آفیسر شفیق احمد جن کی تعیناتی کو بھی متعدد حلقے غیر قانونی قرار دے رہے ہیں کا کلیدی کردار تھاجو وائس چانسلر کے مبینہ طور پر قریبی اور کماؤ پوت سمجھے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کو مطمئن کرنے کے لیے پہلے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ انکریمنٹس کی کٹوتی فنانس ڈیپارٹمنٹ کے لیٹر کے تحت کی گئی ہے تاہم جب متاثرہ ملازمین نے تحریری ثبوت مانگا تو کسی بھی قسم کا فنانس ڈیپارٹمنٹ کا لیٹر پیش نہ کیا جا سکاجس پر یونیورسٹی انتظامیہ کے مؤقف پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ صورتحال مزید دلچسپ اس وقت ہو گئی جب مؤقف تبدیل کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے ایڈوائس لینے کا عندیہ دیا گیاجسے ملازمین کے حلقوں میں وقت حاصل کرنے اور معاملے کو ٹالنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور کمشنر ملتان پہلے ہی پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو شوکاز نوٹس جاری کر چکے ہیں جن میں ان سے سخت لہجے میں وضاحت طلب کی گئی ہے کہ انہوں نے کس قانون اور اختیار کے تحت مبینہ طور پر غیر قانونی پاورز استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی امور میں مداخلت کی اور قانون سے کھلواڑ کیا۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ انکریمنٹس کی کٹوتی، غیر واضح فیصلے، بار بار مؤقف کی تبدیلی اور قانونی حیثیت پر سوالات نے خواتین یونیورسٹی ملتان کو ایک سنگین انتظامی بحران سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ فیکلٹی اور ملازمین اب محض زبانی تسلیوں کے بجائے تحریری احکامات اور قانونی جواز مانگ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اعلیٰ حکام نے فوری اور شفاف کارروائی نہ کی تو یہ معاملہ محض انکریمنٹس تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے نظامِ انتظامیہ پر عدم اعتماد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔







