ایمرسن: امام مسجدتقرر متنازع، رجسٹرار پر الزامات، معاملہ اینٹی کرپشن پہنچ گیا

ملتان (وقائع نگار) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں امام مسجد کی تقرری پر کرپشن کے الزامات، امیدوار کی جانب سے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو درخواست دے دی گئی۔ ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں امام مسجد کی اسامی پر تقرری کے عمل کو متنازع قرار دیتے ہوئے ایک امیدوار قاری مفتی کلیم اللہ نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق سلیکشن کمیٹی کو میرٹ کے خلاف تشکیل دیا گیا اور رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق کو چیئرمین بنایا گیا جو یونیورسٹی ایکٹ اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں سے متصادم ہے۔ قاری مفتی کلیم اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ تقرری مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی رشوت کے عوض کی گئی اور منتخب امیدوار محمد نیاز کی قابلیت میرٹ پر پورا نہیں اترتی۔قاری مفتی کلیم اللہ نے بتایا کہ عام طور پر سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین وائس چانسلر ہوتا ہے، مگر اس کیس میں رجسٹرار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی جو خلاف قانون ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمیٹی میں شامل اراکین میں سے کسی کو بھی امام مسجد کی اسامی سے متعلق کوئی خاص علم نہیں تھا۔ کمیٹی کے اراکین ریاضی، شماریات اور بیالوجی جیسے مضامین کے پروفیسرز تھے اور حفظ قرآن کی جانچ کے لیے کسی حافظ، خطیب، اسلامیات یا عربی کے ماہر کو نہیں بلایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تشکیل سراسر وزیراعلیٰ پنجاب کی میرٹ اور شفافیت کے ویژن کے برعکس ہے۔مفتی کلیم اللہ کے مطابق منتخب امیدوار محمدنیاز میٹرک سے ایم اے تک سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہے اور اس کے پاس ایم فل کی ڈگری بھی نہیں ہے، جبکہ وہ خود میٹرک اور ایم اے میں فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ایم فل ہولڈر ہیں۔ اور میرٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹرویو کے بعد وہ بار بار رجسٹرار سے ملتے رہے اور تقرری کے بارے میں پوچھتے رہےمگر انہیں مسلسل ٹال مٹول کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل میرٹ کی دھجیاں اڑانے، کرپشن اور اقرباپروری کی واضح مثال ہےاور پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قاری مفتی کلیم اللہ نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کو انکوائری کے لیے درخواست دے دی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تقرری کے عمل کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور میرٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اینٹی کرپشن حکام نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ معاملے کی ابتدائی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔یہ معاملہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں شفافیت اور میرٹ کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر رہا ہے، اور اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ پنجاب کی تعلیمی پالیسیوں پر سوالیہ نشان اٹھا سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں