بی زیڈ یو: تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن متنازع، وی سی اختیارات اور یونیورسٹی ایکٹ تشریح پر سوالات

ملتان:زکریایونیورسٹی میں تعیناتیوں کامتنازع نوٹیفکیشن

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں انتظامی تعیناتیوں کے حالیہ نوٹیفکیشن نے ایک بار پھر یونیورسٹی ایکٹ اور فرسٹ سٹیچوز کے درست اطلاق پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ روزنامہ قوم کی قانونی ماہرین کی ٹیم کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو اختیارات کے غلط استعمال کے بجائے قانون کے صحیح اور واضح استعمال کو یقینی بنانا چاہیےکیونکہ وقتی سہولت یا انتظامی آسانی کے نام پر کیے گئے فیصلے ادارہ جاتی ساکھ، گورننس اور مستقبل کے قانونی معاملات کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے 5 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایکٹ 1975 کے سیکشن 16(4)(vi) کے تحت مختلف انسٹی ٹیوٹس اور ڈیپارٹمنٹس میں ڈائریکٹر اور چیئرپرسن کی ذمہ داریاں تفویض کیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق سیکشن 16(4)(vi) کی قانونی تعریف واضح طور پر وائس چانسلر کو اس بات کا اختیار دیتی ہے کہ وہ اساتذہ، افسران اور دیگر ملازمین کو تدریس، تحقیق، امتحانات اور انتظامی امور سے متعلق عارضی یا اضافی اسائنمنٹس دے سکیںنہ کہ وہ ان اسامیوں پر تقرری کا اختیار استعمال کریں جو قانوناً کسی دوسری اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتی ہوں۔قانونی نکتہ نظر سے سب سے اہم حوالہ یونیورسٹی کے فرسٹ سٹیچوز کا سیکشن 3 ہے جس کے مطابق’’چیئرپرسن آف ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹ اور ڈائریکٹر آف انسٹی ٹیوٹ/سنٹر/پرنسپل آف کنسٹیچوئنٹ کالج کی تقرری صرف اور صرف سنڈیکیٹ کرے گی، وائس چانسلر کی سفارش پر اور وہ بھی متعلقہ شعبے کے تین سینئر ترین پروفیسرز میں سے، تین سالہ مدت کے لیے۔‘‘ اس واضح شق کے ہوتے ہوئے کسی بھی دوسری تشریح کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ان عہدوں پر تقرری کا حتمی اختیار سنڈیکیٹ کے پاس ہےنہ کہ وائس چانسلر کے پاس۔ مزید برآں اگر انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدام ناگزیر تھا تو قانون خود اس کا راستہ بھی متعین کرتا ہے۔ یونیورسٹی ایکٹ کا سیکشن 16(3) صاف طور پر کہتا ہے کہ وائس چانسلر کسی ایمرجنسی میں وہ اقدام کر سکتا ہے جو عام حالات میں اس کے دائرہ اختیار میں نہ ہو لیکن کسی دوسری اتھارٹی کے اختیار میں آتا ہو، تاہم اس کے لیے’’ایمرجنسی‘‘کی باقاعدہ قانونی بنیاد اور بعد ازاں متعلقہ اتھارٹی سے توثیق لازم سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں 16(4)(vi) کا سہارا لینا، جس کی نوعیت محض اسائنمنٹ دینے تک محدود ہے، قانونی ابہام اور سوالات کو جنم دیتا ہے۔ چنانچہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی جیسے بڑے اور تاریخی ادارے میں فیصلوں کو شخصی اختیارات کے بجائے ادارہ جاتی فورمز کے ذریعے ہونا چاہیے۔ سنڈیکیٹ کی اتھارٹی کو نظرانداز کرنا نہ صرف قانون کی روح کے منافی ہے بلکہ یہ روایت مستقبل میں مزید انتظامی تنازعات، عدالتی چیلنجز اور گورننس کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ماہرین نے یونیورسٹی انتظامیہ کو واضح مشورہ دیا ہے کہ وہ جاری کردہ نوٹیفکیشنز کا ازسرنو جائزہ لے، تعیناتیوں کو سنڈیکیٹ کے فورم پر پیش کرے اور قانون کے درست استعمال کو یقینی بنائے، تاکہ ادارہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچ سکے اور یونیورسٹی میں شفاف، مضبوط اور آئینی طرزِ حکمرانی کی مثال قائم ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں