ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی نشتر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کو پرائیویٹائز کرنے کے حوالے سے شائع شدہ خبر پر رکن صوبائی اسمبلی سید علی حیدر گیلانی نے فوری طور پر پنجاب اسمبلی میں کال اٹینشن نوٹس جمع کروا دیا ہے اور انہوں نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ ان کے علم میں یہ معاملات نہیں تھے۔ روزنامہ قوم نے یہ بہت بڑی خدمت کی ہے اور ہم گیلانی خاندان کے پلیٹ فارم سے ہر فورم پر جنوبی پنجاب کے اس عظیم ترین منصوبے کو بچانے کے لیے آواز بلند کریں گے اور ایسا کسی بھی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ یہ عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے جو گزشتہ 70 سال سے عوام کی خدمت کر رہا ہے اور میں نے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے مطابق یہاں سے ایم بی بی ایس کرنے والوں کا پہلا بیچ 1957 میں نکلا تھا گویا گزشتہ 69 سالوں میں یہاں سے طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے اور ان سب سابق طلبا و طالبات کی اس کالج کے ساتھ روحانی و جذباتی وابستگی ہے ۔پھر یہ واحد ہسپتال ہے جو پنجاب کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں کے لیے علاج کی سہولیات گزشتہ 70 سال سے فراہم کر رہا ہے گویا یہ ہسپتال نہیں بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں کے اشتراک کی اور محبت کی ایک منفرد اکائی ہے جسے کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی بلوچستان، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک ،لکی مروت سمیت کے پی کے کے متعدد علاقوں کے لوگ اور سندھ کے علاقوں کشمور ،کندھ کوٹ، بھگشا پور ،ڈہرکی ،گھوٹکی اور اوباڑو سمیت متعدد اضلاع کے سینکڑوں مریض یہاں سے مسلسل 70 سال سے شفا یاب ہو رہے ہیں۔ رہا پنجاب کا معاملہ تو میانوالی سے لے کر جھنگ تک اور ملتان سے ساہیوال اور رحیم یار خان تک لاکھوں لوگوں کو یہ ہسپتال طبی سہولیات فراہم کرتا ہے اس لیے اسے نجی شعبے کے شکنجوں سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: نشتر بیچ این 24 برہم، پنجاب حکومت کا بیوروکریٹ کو صنعتی گروپ کی سہولتکاری کا ٹاسک

ملتان (سٹاف رپورٹر) سرائیکی بیلٹ میں عوامی طبی سہولیات اور فلاح و بہبود کے حوالے سے سب سے بڑے منصوبے نشتر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کی نجکاری کے اندر خا نہ کئے جانے والے حکومت پنجاب کے فیصلے پر دنیا بھر کے مختلف کونوں میں موجود نشتر میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کے بیچ این 24 نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ این 24 نشتر میڈیکل کالج سے ڈگری مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کا وہ بیچ ہے جس نے 1980 میں آج سے 46 سال قبل یہاں سے ڈگریاں حاصل کیں اور یہ وہ مشہوربیچ ہے جس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز دنیا کے کونے کونے میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ وہ نشتر کے لیے امداد بھی کرتے رہتے ہیں اور یہ وہی بیچ ہے جس نے نشتر کی توسیع اور ترقی کے لیے ماضی میں کروڑوں روپے کے فنڈز دیئےتھے اور سابق نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے بھی بعد ازاں نشتر ہسپتال کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپیہ صرف کیا اور انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق اس وقت کے ٹھیکے داروں اور محکمہ صحت کے بعض اعلیٰ افسران نے ملی بھگت کرکے این 24 بیچ کے ڈاکٹروں کی امداد سے کی جانے والی تزئین و آرائش پر بعد میں ہونے والے کاموں کی آڑ میں کروڑوں روپے کی جعلی بوگس اور ڈبل ادائیگیاں کرکے بھاری رقوم خورد برد کی جس کی تحقیقات بھی شروع ہوئیں مگر ابتدا ہی میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کہ سابقہ دور میں تعینات افسران کے ساتھ معاملات طے پا گئے جس پر انکوائریاں رکتی گئیں اور تمام تر فائلیں دبا دی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے محکمہ ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے ایک بیوروکریٹ کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ اس ہسپتال کی نجکاری کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ملتان سے تعلق رکھنے والے مذکورہ صنعتی گروپ کو نہ صرف مکمل معلومات فراہم کریں بلکہ ان کی مکمل رہنمائی اور سہولت کاری کریں جس کے بعد مذکورہ افسر صنعتی گروپ کو ہر ممکن قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ روزنامہ قوم کو ملنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق مذکورہ صنعتی گروپ کے آڈٹ عملے نے ابتدائی معلومات کے بعد جو رپورٹ تیار کی ہے وہ کچھ حوصلہ افزا نہیں اور اس میں بے شمار مسائل سامنے آ رہے ہیں مگر دوسری طرف محکمہ ہیلتھ کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی پالیسی کو بری طرح ناکامی کے باوجود زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے اور ابتدائی طور پر جو دیہی مراکز صحت اور بنیادی مراکز صحت نجی شعبے کو دیئے گئے ہیں وہ منصوبہ نہ تو مطلوبہ نتائج لا سکا ہے اور نہ ہی کامیاب ہو سکا ہے بلکہ شدید قسم کے مسائل سامنے آ رہے ہیں مگر اس کے باوجود حکومت پنجاب نجکاری پر زور دے رہی ہے۔







