اسلام آباد: ملک میں بڑے اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان میں ٹیلی میڈیسن نظام کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ صحت کے تعاون سے صحت کہانی کے تحت پہلے ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے آغاز کا دن شعبۂ صحت کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی رش اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کا نظام مؤثر طور پر موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ٹیلی میڈیسن ایک مؤثر اور قابلِ عمل متبادل ثابت ہو سکتا ہے، جسے وفاقی سطح پر بنیادی صحت مراکز میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیلی میڈیسن شعبۂ صحت میں ایک خاموش مگر بڑی تبدیلی ہے، جو عوام کو گھر کے قریب جدید طبی سہولیات فراہم کرے گی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسلام آباد کے گوگینہ گاؤں میں ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا عملی آغاز ہو چکا ہے، جہاں صحت کہانی کے ذریعے ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر خدمات فراہم کی جائیں گی، جس سے مریضوں کو بڑے اسپتالوں کا رخ کیے بغیر معیاری علاج میسر آئے گا۔







