انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ سماعت کے دوران وکلائے صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ عدالتی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں مقدمات سے متعلق ہدایات درکار ہیں۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک ٹرائل سے متعلق پنجاب حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی نقل وکلائے صفائی کو فراہم کر دی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے آج کی سماعت میں غیر حاضر تمام ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک جبکہ اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلائے صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ مقدمات سے متعلق قانونی مشاورت کر سکیں۔
اس موقع پر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور اس عدالت کی تحویل میں نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت سزا یافتہ ہیں، اس لیے ملاقات کے لیے وکلائے صفائی کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ سزا یافتہ قیدی جیل سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں ہوتا ہے اور ملاقات کی اجازت کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے 30 اکتوبر 2025 کو نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کے ویڈیو لنک ٹرائل سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔







