ریاست سوگئی، ڈاکٹر سے مسیحا تک کا سفر رک گیا، نظام صحت زوال پذیری کا شکار

ملتان(تجزیہ:ڈاکٹرہارون خورشید پاشا)ہمارا ملک جب سے معرض وجود میں آیا، دو یا تین شعبوں کو ہی سب سے افضل سمجھا گیا — ان میں نمایاں ترین ڈاکٹر اور انجینئر تھے۔ جو طالبعلم ان میں سے کسی شعبے میں داخل نہ ہو پاتا، وہ خود کو بدنصیب سمجھتا اور دوسرے میدانوں میں داخل ہونے پر مجبور ہوتا۔ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ہسپتال وافر تھے، حکومتیں ادویات فراہم کرتی تھیں اور عوام مطمئن تھے۔ مگر 1950ء کی دہائی کے بعد حالات بدلنے لگے۔ حکومت نے نہ صرف نئے ہسپتال بنانا بند کر دیے بلکہ صحت اور تعلیم، دونوں کے بجٹ میں نمایاں کمی کر دی۔اگر ہم صرف ملتان کی مثال لیں تو 1951ء میں قائم ہونے والا نشتر ہسپتال اُس وقت ایشیا کے بڑے طبی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ لیکن اس کے بعد سات دہائیوں تک کوئی نیا بڑا سرکاری ہسپتال تعمیر نہ ہوا، یہاں تک کہ 2022ء میں نشتر ٹو کے قیام نے اس خلاء کو جزوی طور پر پُر کیا۔اسی دوران آبادی کا دباؤ بڑھتا گیا، مگر طبی سہولیات محدود رہیں۔ حکومت کا نعرہ یہی رہا کہ “ہم مفت ادویات فراہم کر رہے ہیں”، اور جب دوائیں دستیاب نہ ہوئیں تو غصہ ڈاکٹروں پر نکالاگیا کہ وہ ادویات روک لیتے ہیں۔یوں ڈاکٹر اور عوام کے درمیان ایک نفسیاتی خلیج پیدا ہوتی گئی ۔ ہسپتالوں میں جھگڑے اور بدنظمی عام ہوگئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ڈاکٹر بننے کا مطلب فرشتہ بن جانا نہیں ۔وہ بھی انسان ہیں، احساس رکھتے ہیں اور ظلم یا زیادتی پر ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ایک وقت تھا جب ہر پری میڈیکل کا طالبعلم انٹرویو میں کہتا تھا:“مجھے بچپن سے شوق ہے کہ میں دکھی انسانیت کی خدمت کروں۔”مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ ایک دانشور نے بجا کہا:“آج کا بچہ کہتا ہے، میں بڑا ہو کر مریض بنوں گا تاکہ دکھی ڈاکٹروں کی خدمت کر سکوں۔”یہ جملہ مزاحیہ ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے گہری تلخی چھپی ہےآج صورتِ حال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ایک بستر پر تین تین مریض لیٹے ہیں۔ڈاکٹر اتنے مصروف ہیں کہ کسی ایک مریض سے تفصیلاً بات کرنا یا مسکرا کر ملنا بھی ممکن نہیں رہتا،اور جب ایک ڈاکٹر تھکن یا دباؤ میں رہ جائے تو اس کی غلطی کا بوجھ پورے پیشے پر ڈال دیا جاتا ہے۔کالجوں میں تعلیم تو دی جاتی ہے، مگر تربیت گھروں سے آتی ہے۔یہی وہ خلا ہے جہاں ہمارا نظام اخلاقی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے کمزور پڑ گیا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ حکومت نے اصلاحِ احوال کے بجائے الٹا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے صحت کے اداروں کی بہتری کے لیے بجائے طبی ماہرین کے، انتظامی افسران کو نگران بنا دیا۔اب اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اور ایڈیشنل کمشنر ہسپتالوں کے معاملات دیکھنے لگےجو ایک ایسا افسوس ناک رویہ ہے۔ ڈاکٹروں نے جب یہ دیکھا کہ وہی لوگ جو میڈیکل کالجوں میں داخل نہیں ہو سکے، اب ان پر حکمرانی کر رہے ہیں،تو ان کے ذہن میں سوال ابھرا: “کیوں نہ ہم بھی بیوروکریسی کا حصہ بن جائیں؟”یوں ڈاکٹرز نے سی ایس ایس کے امتحانات دینا شروع کیے، اور رفتہ رفتہ ڈی ایم جی گروپ میں شامل ہونے لگے۔ایک وقت آیا کہ ہر دوسرا قابل طالبعلم یا تو بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دینے لگا یا بیوروکریسی میں۔پوسٹ گریجوایٹ تعلیم کے امیدواروں کے لیے تربیتی مواقع کم ہیں،شرائط زیادہ، دیہی سروس لازم، سہولتیں ناکافی۔دیہات میں وہ مجبوری میں جاتے ہیں، جذبے سے نہیں۔اور جب حکومت بنیادی ہیلتھ یونٹس خود نہیں چلا سکی تو انہیں ٹھیکے پر پرائیویٹ اداروں کے سپرد کرنا شروع کر دیا۔بیرونِ ملک جانے والے ڈاکٹروں کے لیے دنیا کے دروازے کھل گئے۔مشرقِ وسطیٰ، یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا۔ سب پاکستانی ڈاکٹروں کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔ کیونکہ وہاں نظام بہتر ہے، احترام ہے، سہولیات ہیں۔اسی دوران ملک میں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کا سیلاب آگیاڈاکٹر بننے کا جنون اتنا بڑھا کہ والدین نے جمع پونجی لٹا دی،مگر جب حقیقت سامنے آئی تو اخراجات ان کی بساط سے باہر تھے۔یوں طلبہ روس، چین اور وسطی ایشیا کے ملکوں میں جا کر ایم بی بی ایس کرنے لگے۔پھر حکومتی پالیسی نے ان کے راستے بند کر دیے گئے۔ایک صاحب نے از راہِ مزاح کہا:“ہماری بیٹی کے لیے ایک ڈاکٹر کا رشتہ آیا۔ ہم نے کہا، یہ تو پتا ہے کہ وہ ڈاکٹر ہے، بتائیں، کرتا کیا ہے؟”یہ جملہ ہنسی میں کہا گیا، مگر اس میں پورا نظامِ صحت کا نوحہ پوشیدہ ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، انتظامیہ، ڈاکٹرز، اور معاشرہ مل بیٹھ کر سوچیںکہ اس زوال کو کیسے روکا جائے،اور صحت کے شعبے کو دوبارہ عزت و وقار کی بلندیوں پر کیسے پہنچایا جائے۔اصلاحِ احوال۔ ایک مشترکہ قومی ذمہ داریکسی بھی معاشرے میں صحت کا نظام محض ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے نہیں،بلکہ انصاف، منصوبہ بندی، اور عزمِ ملی سے پروان چڑھتا ہے۔پاکستان میں بگاڑ کسی ایک طبقے یا فرد کی وجہ سے نہیں، بلکہ نظامی عدم توازن، ترجیحات کی غلط تقسیم اور اعتماد کے فقدان کا نتیجہ ہے۔اب وقت ہے کہ ہم ازسرِ نو سوچیں، اور چند بنیادی اصلاحات کو قومی ایجنڈے کا حصہ بنائیں۔1۔ صحت کو ریاست کی پہلی ترجیح بنایا جائےصحت کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔ہر صوبے میں ہیلتھ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم ہو، تاکہ منصوبے سیاسی نہیں، پائیدار ہوں۔۲۔ بیوروکریسی اور طبی ماہرین کے درمیان توازن بحال کیا جائےہسپتالوں کی سربراہی بیوروکریٹس نہیں، بلکہ ڈاکٹرز ایڈمنسٹریٹرز کریں۔۳۔ میڈیکل کالجوں میں اخلاقی تربیت کو لازمی مضمون بنایا جائے“Humanism” اور “Professional Ethics” جیسے مضامین کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ڈاکٹرز کو احساس دلایا جائے کہ ایک مسکراہٹ بھی شفا کا ذریعہ بن سکتی ہے۔۴۔ دیہی صحت کے نظام کو عملی طور پر مضبوط کیا جائےبی ایچ یوز کو ٹھیکے پر دینے کے بجائے، ریاستی طور پر فعال کیا جائے۔دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو مراعات، سکیورٹی اور ترقی کے مواقع دیے جائیں۔۵۔ پوسٹ گریجوایٹ تربیت کے مواقع میں اضافہ کیا جائے۔۶۔ نجی شعبے کو شفافیت کے ساتھ شریک کیا جائےپرائیویٹ میڈیکل کالجز کو ریگولیٹ کیا جائے۔ایک خودمختار ہیلتھ ایجوکیشن ریگولیٹری بورڈ قائم کیا جائے۔۷۔بیرون ملک کامیاب ڈاکٹروں کو وطن واپسی پر عزت، سہولتیں، اور تحقیقی مواقع فراہم کیے جائیں۔۸۔ عوامی اعتماد کی بحالی، میڈیا، نصاب اور عوامی آگاہی کے ذریعے یہ احساس اجاگر کیا جائےکہ ڈاکٹر دشمن نہیں، محسن ہیں۔جب مسیحا کی عزت بحال ہوگی، تو علاج کی حرمت بھی لوٹ آئے گی۔پاکستان کا صحت کا نظام کسی ایک ادارے یا فرد کا نہیں —یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔اگر حکومت، ڈاکٹر، بیوروکریسی، اور عواماخلاصِ نیت اور دیانتِ فکر کے ساتھ متحد ہو جائیںتو وہ دن دور نہیں جب “نشتر” جیسے ادارے دوبارہایشیا کے فخر کے طور پر جانے جائیں گےاور “ڈاکٹر” کا لفظ پھر سےمحبت، مسیحائی، اور اعتماد کی علامت بن جائے گا۔ دنیا اسلام فوبیا سے ہٹ جائے اور ہماری عوام “ڈاکٹرفوبیا“ سے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں