ملتان (وقائع نگار) نشتر ٹو بحران کا شکار،وائس چانسلر کی مبینہ غفلت، سینکڑوں ملازمین 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی کی مبینہ غفلت اور انتظامی نااہلی کے باعث نشتر ہسپتال ٹو کے سینکڑوں ملازمین گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ تنخواہیں نہ ملنے پر سیکیورٹی گارڈز اور صفائی کے عملے نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال ٹو میں تعینات 150 سیکیورٹی گارڈز اور 250 صفائی کے ملازمین کو جولائی 2025 سے اب تک تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث ملازمین فاقہ کشی، گھریلو اخراجات اور بچوں کی تعلیم جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔احتجاجی ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ کم ترین تنخواہوں پر فرائض انجام دیتے ہیں لیکن مسلسل چھ ماہ سے اجرت نہ ملنے کے باوجود انتظامیہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ متعدد بار احتجاج اور درخواستوں کے باوجود مسئلہ حل نہیں کیا گیا، جو اعلیٰ انتظامیہ کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ذرائع نے بتایا کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نشتر ہسپتال ٹو ڈاکٹر اظہر عباس نقوی کی جانب سے تنخواہوں کے تمام بل باقاعدہ طور پر منظوری کے لیے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی کو بھجوا دیے گئے تھے جو تقریباً 14 کروڑ روپے سے زائد ہیں، تاہم تاحال ان بلوں کو منظور نہیں کیا گیا، جس کے باعث ادائیگیاں رک گئی ہیں۔ملازمین کا الزام ہے کہ وائس چانسلر کی سطح پر غیر ضروری تاخیر اور عدم توجہی کے باعث نہ صرف ملازمین متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ہسپتال کے بنیادی انتظامی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ صفائی اور سیکیورٹی کے شعبے متاثر ہونے سے مریضوں اور تیمارداروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔احتجاج کرنے والے ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے مرکزی دفتر تک احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ملازمین نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر صحت، سیکریٹری صحت اور گورنر پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشتر ٹو جیسے بڑے سرکاری ہسپتال میں ملازمین کو تنخواہوں سے محروم رکھنا سنگین انتظامی ناکامی ہے۔







